فاطمہ حسن

فاطمہ حسن

اعتبار

    اس دِیے کو جلنے دو اس دِیے کی روشنی سب کا اعتبار ہے اس دِیے کی روشنی گھر نہیں جلائے گی جس جگہ اندھیرا ہے اس جگہ تو جلنے دو