یہ عہدِ نو ہے
-
سنا ہے ہم نے یہ عہدِ نو ہے فگار ہاتھوں میں مشعلیں ہیں اُداس آنکھوں میں روشنی ہے نئی اُمنگوں کی ولولوں کی محبتوں کی، نجیب لمحوں پہ نخوتوں کا گماں نہیں ہے یہ عہد و پیماں نئے نئے ہیں صبیح لفظوں کی سب قطاریں کھِلی ہوئی ہیں نئے روابط نئے صلوں کا یقیں لے کر کھُلی فضاؤں میں رقص گر ہیں مگر لہو کی یہ سرد بارش! حساب اس کا بھی دے گا کوئی؟ کہ اس کو عہدِ گزشتگاں کے سپرد کر کے نئی رتوں کے جمیل رہبر نئی سبیلوں پہ رقص کرتے رہیں گے یونہی سماعتوں پہ بصارتوں پہ فریب بُنتے رہیں گے یونہی!