یاسمین حمید

یاسمین حمید

1990ء

    ہر نئے سا ل کی صورت یہ بھی ویسی ہی صبح لیے عرصۂ زیست پہ ہوتا ہے طلوع وہی محور وہی افلاک و زمیں کی گردش وہی خوں رنگ لکیروں کے بدلتے نقشے وہی لمحے وہی خاموش گزرگاہ جہاں سے کبھی راہی کوئی یوں گزرتا ہے کہ گویا اُس کو پھر کبھی لوٹ کے آنا ہی نہیں اِس جانب وہی موسم، وہی منظر، وہی آنکھیں جن سے چند لمحوں کے سالہا سال سے رکھے ہوئے حالات کے بے جان بتوں کو چُھو کر اک روایت کو تروتازہ کیا جاتا ہے پھر انہی لمحوں کی بے سود تھکن سے بوجھل آنکھ کو موند لیا جاتا ہے بانجھ ہے دیدۂ بے خواب مگر اک برس اور دیا جاتا ہے نخلِ امید کے پھلنے کے لیے منظرِ زیست بدلنے کے لیے!