یاسمین حمید

یاسمین حمید

جذبۂ شوق کا مینار اگر

    جذبۂ شوق کا مینارا گر رشتۂ درد کا شہکارا گر خوبصورت ہے مکمل ہے تصور سے حسیں تر ہے تو پھر آنکھ جو دیکھ رہی ہے اُس کو اُس کی تحریر کے آئینے میں کیوں تحیر کی علامات نہیں کیوں تخیل کے دریچے سے اُسے اپنے احساس کی وسعت میں اُبھرتا ہوا اک تاج محل اس عمارت سے بہرطور جدا لگتا ہے طرزِ تعمیر میں کچھ اِس سے سوا لگتا ہے!