یاسمین حمید

یاسمین حمید

ایک دن اور گزر گیا

    سانس کا دھواں تمام کھڑکیوں پہ جم گیا پھر ایک شہر گم ہوا تماشاہ گاہِ روز شب میں صرف میں ہوں اور سنگ و خشت کا حصار ہے لہو لہان واہموں کی آہٹیں ہیں چھپکلی سی رینگتی سخن طراز عورتوں کا غول سرسرا رہا ہے میری سمت بڑھ رہا ہے۔۔۔ درد کی تپش سے دل کے روزنوں پہ لہلہاتی شاخِ گل جھلس گئی کسی کی معترض نگاہ اعتبار کی حدوں پہ رُک گئی اور آج بھی یہی ہوا کہ عہد نامۂ وفا کی سطرِ خاص کاغذی تعلقات کے حساب میں لکھی گئی کتابِ دل کا ایک اک ورق گواہ ہے کتاب بے پڑھی ہی رہ گئی صریرِ خامۂ سیاہ نے صدا بلند کی تو سوچتی سماعتوں کا دائرہ سمٹ گیا کسی کا نام دوسرے کے نام سے جدا ہوا اور انتظار نے دلوں کی سر زمیں پہ اک لکیر کھینچ دی ہواؤں نے سخن کیا تو گھر کے سارے لوگ روشنی بجھا کے سو گئے اک اور دن گزر گیا!