سب کچھ محفوظ کر لو
سب کچھ محفوظ کر لو ایک ایک نقطہ ایک ایک لفظ انسانوں اور جانوروں کے اعضا لکڑی کے ٹکڑے ایک صندوق بناؤ ان سے اور بھر دو اسے لفظوں سے اور جانداروں کے مردہ اعضا سے بے معنی بات کر کے اسے معنی خیز نہ بناؤ بعض جال چالاکی سے بڑے ہوتے ہیں اور مسخرے بھی پھر جب تم رونا چاہتے ہو تو تمہیں ہنسنا پڑتا ہے اور جب تم ہنستے ہو تو ڈھول بجتا ہے اور ساری دنیا سنتی ہے سنا ہے لوگ دنیا سے ڈرتے ہیں جیسے تم اپنے آپ سے ڈرتے ہو جیسے میں اپنے آپ سے ڈرتی ہوں تم اور میں مل کر دنیا بن جاتے ہیں جیسے ایک اور ایک دو اور دو اور دو آٹھ ہوتے ہیں زیادہ باتیں نہ کرو اگر زبان کٹ گئی تو ان باتوں کو کون دہرائے گا زیادہ بوجھ نہ اٹھاؤ اگر کمر دوہری ہو گئی تو اسے کون بانٹے گا دھیرے دھیرے چلو سرعت کا ہے کی تمہارے پاس تمہارا ماضی ہے اس صندوق میں اور آنے والے کل کی باگ ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے!