جاوسنگ ۔ آئی

جاوسنگ ۔ آئی

نظم

    ترجمہ:حبیب فخری

     

    دنیا اب خاموشی کو یکسر ختم کرنے کے لیے

    بہر نوع تیار ہے

    دور افتادہ اس کا جھونکا

    پھولوں کے سائے میں محو خواب ہے

    وہ آزادانہ چلتی ہے

    ایک پوشیدہ خوشبو باقی ہے

    کون ہے جو اسے سمجھ سکے

    شجر میں

    نئے ٹیلے پر باد مغرب سرگوشی کرتی ہے