نظم
ترجمہ:حبیب فخری
سر بلند تیز رو، پابندیوں کو پیچھے چھوڑ کر
میری طرف بڑھتے ہیں
ایک ہزار کشادہ لہروں میں
سنگریرزے ریت سے الجھتے ہیں
وہاں میں نے انبساط کے ساتھ
دھند کے پار پہاڑ دیکھے
صبح کی ہوا میں
بادل اور ہوا مل کر
ساحل کے حلقے تک کی تمنا کرتے ہیں
ترجمہ:حبیب فخری
سر بلند تیز رو، پابندیوں کو پیچھے چھوڑ کر
میری طرف بڑھتے ہیں
ایک ہزار کشادہ لہروں میں
سنگریرزے ریت سے الجھتے ہیں
وہاں میں نے انبساط کے ساتھ
دھند کے پار پہاڑ دیکھے
صبح کی ہوا میں
بادل اور ہوا مل کر
ساحل کے حلقے تک کی تمنا کرتے ہیں