نظم
ترجمہ:حبیب فخری
تیز تیز چلتے
ہم دفعتاً ان متنوع پہاڑوں سے گزر آئے
یہ دل جیسے باہر آیا
اور ایک آوارہ بادل سے جا ملا
اپنی فراغت میں
ہر وادی میں مجھے چونکاتا رہا
برف سے مرتب نئی زمین
عمومیت سے دور
ایک ایسا ملاپ
جیسے کوئی اولیں صاف دل مل جائے
ترجمہ:حبیب فخری
تیز تیز چلتے
ہم دفعتاً ان متنوع پہاڑوں سے گزر آئے
یہ دل جیسے باہر آیا
اور ایک آوارہ بادل سے جا ملا
اپنی فراغت میں
ہر وادی میں مجھے چونکاتا رہا
برف سے مرتب نئی زمین
عمومیت سے دور
ایک ایسا ملاپ
جیسے کوئی اولیں صاف دل مل جائے