یہ کارگاہِ خام ہیں
ذرا یہ رقص روکیے سرائے ماہتاب میں فقط یہ چاندنی نہیں ذرا اسے بھی دیکھیے حقیر فیل بان کا سیاہ رنگ سا بدن قریب میں پڑا ہوا لباس سے ورا مگر حیا سے ماورا نہیں نہ اس کا کوئی نقش ہے نہ اس کے کوئی نین ہیں بس ایک لہر سانس کی ہے نغمہ ہائے مشترک یہ گرمیٔ خرام بھی عجیب لطف خیز ہے قدم رکے تو سنگ ہیں تھرک اٹھے تو خاک ہیں کہاں کے جسم کس سمے فروغِ انہدام ہوں کسے خبر؟ نہ رنگ ان کا روشنی نہ رقص ان کی گفتگو ہمیشگی کی سل پہ نقش لفظ کے غلام ہیں تمام انہدام ہیں ازل سے رقص گاہ میں نظر کا التزام ہیں یہ کارگاہِ خام ہیں