التجا
-
پردۂ خاک پہ روندے ہوئے گلزار کو دیکھ سبز کر سرد تعلق پہ جڑے نقش کی لو خوش مزاجوں کی روایت کا بھرم رہ جائے ہم پرندوں کی مناجات پسِ پشت نہ ڈال تیری آسودہ نگاہی کی طلب ہے پھر سے دور ر پھیلے ہوئے سبز کناروں کے بدن جن سے اکتائے ہوئے پل کی مہک آتی ہے تیرے اک لمس کی حیرت سے نئے ہو جائیں زرد شاخوں پہ تنی قوس کی تاویل نہ ڈھونڈ سوچ مت کیسے خطاوار ہوا موسمِ گل آ کہ اب زرد روایت پہ اُتر آئیں گلاب سانس روکے ہوئے منظر کی فراوانی میں ہجر کے تازہ تعلق پہ نظر ثانی کر ہم جو آزاد ہوئے ہیں ہمیں زندانی کر