کیٹ واک
ہوا کے زرد پھریرے پہ اپسراؤں کا نور وہ ذوقِ ترکِ حجابات میں گندھی آنکھیں خرابہ ہائے ریاضت سے لرزاں بار قدم تلاشِ صندل و سیمیں بدن میں گُرگِ فساد سجے سجائے، تنے، ایستادہ ، رنگ نژاد یہاں پہ جسم برائے فروخت ہوں جیسے اِسی جہانِ نظر میں، میں حسنِ خواب انگیز جو عکسِ آب پہ کچھ اس طرح سے چلتا ہے کہ جیسے رقص پہ مائل کسی چراغ کی لو ثباتِ مشقِ ستم دُور تک ہمکتا ہوا میں حرفِ دامنِ صد چاک، نا تمام کلام کسی کے لمسِ سماعت سے آشنا ہو کر شعورِ دید کے تلخاب واہموں کے دروں بس ایک پل کی تجلی کو آشکار ہوا پھر اس کے بعد ہجومِ خرامِ صحبتِ نو طلوعِ جلوۂ تازہ پہ مسکرائے گا رہے گا ساتھ مرے تالیوں کا شور ذرا پھر ایک عمر کی خاموشی ہم رکاب مری یہی ہے حسنِ نظارا کی دائمی ترکیب