صبح
یہ برگِ خواب ، یہ گملوں میں پچھلی رات کے دُکھ کیے ہوئے ہیں مقفل سراب عہد کے پھول جلی ہوئی کسی تصویر کا بجھا ہوا رنگ جھڑی ہوئی ہیں دیارِ فسوں کی دیواریں جھکی ہوئی ہیں چھتیں سبز فام بستی کی درِ نوا ہے مقفل کہ مصلحت اندیش زمانے برسرِ پیکار ہو گئے ہم سے شجر کہ جیسے برہنہ پرستشوں کے سخن کلام کرتے ہوئے موسمِ گرفتہ سے میں ضعفِ سانس کی نسبت سے ہوں گریزاں اور دو نیم آگ پہ تشکیلِ خدوخالِ جنوں قدم قدم پہ ہے زنجیر، آب و گل کا ہنر عجیب خوف سماوات سے اُتر آیا ندی کی سطحِ خموشاں پہ رقصِ سوز و حروف سماعتوں میں تکلف کھلا صداؤں کا مرے چہار طرف جبر بے نیام ہوا میں ایسی صبح کی دہلیز پہ کھڑا ہوا ہوں