رقاصہ
ہجومِ تازہ صف آرا ہے انتظار میں ہے اُس ایک شعلہ بکف آئنہ مزاج کا جو طلوع ہوتا ہے پردے کے اُس طرف شب کو تو سب بصارتیں روشن چراغ ہوتی ہیں پلک پلک پہ تھرکتا ہے اُس پری کا وجود ہر ایک تال پہ کھلتا ہے اُس کی سانس کا خم جہاں جہاں پہ پڑیں اُس کی ایڑیوں کے بھنور وہاں سے تارِ تنفس بہ التزام کھلے تمام مجمعِ انفاس دم بخود سرِ رقص وہ جسم جیسے کہ محوِ کلام ساز و سرور وہ آنکھ لوگوں کی آنکھوں کے التفات میں گُم وہ صرف چانتی ہے اور وقت دیکھتا ہے یہ شرق و غرب میں فتنے کی بازیابی کا دور ذرا سی دیر میں تارِ فسوں بنا ہو گا غروب ہوتا ہے اک رقص ، سب کے قلب حزیں طلوع ہوتے ہیں دائم غروب ہونے کو