الیاس بابر اعوان

الیاس بابر اعوان

اذیت کے پھندے

    سنواہلِ صحرا! شمالاً جنو باً رقصاں بگولے جنہیں اذنِ تیشہ گری مل گیا ہے تمہارے سروں پرخجل ساعتوں کی نئی داستانوں کو کندہ کریں گے صنوبر کی لکڑی کے تابوت لے کر سمندر کے اُس پار سے سرخ وحشی چلے آرہے ہیں تم اپنی زمیں کے وہ تنہا مسافر جنہیں راستوں کی خبر تک نہیں ہے جنہیں چار جانب سے گھیرا گیا ہے درختوں کی دستار چھینی گئی ہے چھتوں کی ردائیں جلا دی گئی ہیں نواحِ محبت میں سوداگرانِ معیشت کی منڈی جہاں خون بکتا ہے اپنوں کے ہاتھوں پینے لگی ہے سنو اہلِ صحرا! تمہیں یہ اذیت عطا کی گئی ہے سوجھیلو عقیدت سمجھ کراسے تم اس میں تمہاری بقارہ گئی ہے