الیاس بابر اعوان

الیاس بابر اعوان

اعتراف

    وہ ہجر یافتہ لمحے وہ کم نگاہ شہود مری نظر کے حوالوں میں تھے کبھی موجود کہیں کہیں کوئی کترن خیالِ رفتہ کی کہیں کہیں کسی رعنائی کی لپک عریاں مرے وجود میں کھلتا ہوا وہ تارِ طلسم وہ میری سانس میں ٹھہرا ہوا عذابِ نہاں وہ سمت جیسے ہو بجھتے چراغ کی ساعت درونِ وہم و گماں چشم نیم شب کا سکوت یہیں فلک کے کواڑوں کا نور نتھرا ہوا یہیں پروں پہ مرے چادریں سفارت کار کہاں کہاں کا ہنر بولتا ہوا دل میں فقط رہینِ طلسماتِ جاوداں مری صورت یہ آئنوں سے ہنر کیش لذتوں کے وجود یہ ٹمٹماتی ہوئی ان کہی ہوئی باتیں ریاضتوں میں ہمکتے ہوئے وہ خال و خط وہ تربتوں پہ کھلے پھول کچھ کتابت کے وہ میرے خواب جنہیں لوگ اشک کہتے ہیں مرے قلم کی صداقت میں بس یہی کچھ ہے