زشت پائی پہ مغموم دانشور
اے غلام ابنِ آزاد ! کیا زندگانی کی تفہیم منطق سے بھی ہو سکی ہے؟ وہ کلیے جو مجھ کو خسارے میں رکھیں، سراسر غلط ہیں سبھی اختلافی دلیلیں فقط قا بلِ مسترد ہیں ہمیشہ ہوا ہے کہ مغلوب قوموں کے دانشوروں میں حسن بن نثاروں کی کثرت رہی ہے یہی ہیں وہ مینار ِجمرہ میں اپنے صنادید چنوانے والے یہی ہیں وہ ہرزہ سرائی کے کنکر اٹھاکر رَمی کرنے والے یہی ہیں وہ گہرے سمندر کی تہہ میں اتر جانے والے یہی ہیں وہ گہرولآ علی سے خالی صدف لانے والے حسن بن نثاروں کی آنکھیں گزشتہ کئی سو برس تک پہنچتی ہیں لیکن کہیں روشنی کی رمق دیکھ پاتی نہیں ہیں یہ طاؤسِ گریہ کُناں اپنی گردن جھکائے سدا زشت پائی کو دیکھا کیے ہیں کبھی آئنے کے برابر نہ آئے ہیں نہ آ سکیں گے