سرمد سروش

سرمد سروش

تخمِ دیوار

    ایک ناچار ہوں ! میں کہ ناکاشتہ تخمِ دیوار ہوں اپنی قسمت کے پتھر سے دوچار ہوں چاہ کر بھی میں اُن دیوقامت درختوں کو ہرگز نہ پا سکوں گا کبھی جن کے پیروں کو زرخیزیاں چومتی ہیں میں فطرت کے جوئے میں ہارا ہوا شخص ہوں ! آسمانوں کی لا عدل میزان پر مجھ کو تولا گیا زیست کی دوڑ میں ظلم سے دیر سے مجھ کوچھوڑا گیا میں ترے لاڈلوں کے نشاں ڈھونڈتا رہ گیا میں کہاں رہ گیا ! عمر بھر میں نے جامِ حشیشِ قناعت پیا اپنے پُرکھوں کا تاریک جیون جیا اک اساسی جبلّت سے بڑھ کر مجھے زندگی کو منانے کا یارا نہیں کارخانۂ قدرت کا ایندھن ہوں میں دوسرا کوئی چارہ نہیں اپنی محنت کے پودے کوخون جگر بھی پلاؤں تو کیا آک پر آم آتے نہیں،جانتا ہوں مگر مجھ پہ سایہ ہے یاجوج ماجوج کا راہ کرنی ہے خِلقی تفاوت کی دیوار میں مُنہمک ہوں اک کارِ بے کار میں