پرندوں کے ساتھ اُڑتی حسرتیں
اگر میں پھر سے بنایا جاؤں تو اک پرندہ بنایا جاؤں مری طبیعت پرندگاں کے قریب تر ہے عظیم کونجوں کی ڈار کے سنگ میں تخیل اڑا رہا ہوں یہ جون لے کر کے آدمی کی ازل سے جی کو جلا رہا ہوں ’’وہ میرے گاؤں کا شہر خاموش جب قیامت کے بعد مخلوق کو ملے گا تو میرے آبا کی ہڈیوں کو تلاش کرکے وہ یوں کہیں گے یہ کیسا دوپایہ جانور تھا کہ پیر اس کے فعالیت تک پہنچ نہ پائے تھے ارتقا سے یہ جیو جہد البقا میں شاید زمیں کے ٹکڑے سے جڑ گیا تھا وہ بے قراری جو اس جہاں میں ہر ایک کو ہے یہ جیو اس بے کلی سے شاید مکر گیا تھا‘‘ مکرگیا ہوں مگر میں سرمد سروش اس طرزِ زندگی سے نکلتا چاہتا ہوں قید خانۂ آدمی سے اگر مجھے پھر سے خلق کیجے تو اپنی صورت نہ مجھ کو دیجے کیا آدمی بن کے میں کیا ہے کیا آدمی بن کے میں کروں گا