سرمد سروش

سرمد سروش

عبوری مسرت کا دن!!

    یہ بازارِ معبد کھلا ہی رہے گا زمانے کی منڈی میں مندی نہ ہو گی ہمیں اپنا سودا ہی کرنا ہے سرمد سو کرتے رہیں گے ..... ہمیشہ کیا ہے! مگر اک حسین دن فرشتوں نے نظریں چرا کر یہاں آج ٹھہرا ہوا ہے تو آؤ کہ ہم زندگانی کی لایعنیت کو عبوری مسرت کے رنگوں سے بھر دیں یہی اک ثوابوں کے نوٹوں کی گڈی، کمائی ہے میں نے کہو تو میں امروز بیلیں لٹا دوں! چلو آج دریا کنارے چلیں عمر کی رائگانی بہانے کا دن ہے یہ دن اپنی ہستی منانے کا دن ہے عجب آرزو ہے کہ ہم ماورائے کشش، آج آوارہ پھرتے رہیں کائناتی اصولوں سے آزاد ہونے کا دن ہے ابھی شام آئے گی ہم لوگ تھک جائیں گے چار و ناچار واپس چلے جائیں گے