اگرچہ کونپلیں پھوٹیں
-
اگرچہ کونپلیں پھوٹیں مگر جاڑے کے موسم میں تمنائیں کسی آغوشِ تربت میں جنم پائیں مجھے وہ پھول بھائے تھے جو کملانے کو آئے تھے میں جن لوگوں سے ملتا تھا اُنہیں جانے کی جلدی تھی کسی خاموش ہوتی شمع کا پروانہ تھا سرمد بہاریں کوچ کرتی تھیں میں جب گلشن میں آیا تھا الاؤ سرد پایا تھا، افق پہ دھول دیکھی تھی زمانہ کان تھا ہیروں کی میں نے کوئلہ پایا میں سونا چھان کر دریا سے ریگستان لایا ہوں ہمیشہ مادرِ قسمت کوئی مردار جنتی ہے میں مرگِ نو پہ روتا ہوں یہ دنیا مجھ پہ ہنستی ہے