جوف!
بارہا میں نے گَلگَل بھی منہ میں نچوڑے، زباں اپنے دانتوں میں رکھ کر دبائی، بہت گرم چمچے سے داغا۔۔۔۔ مگر تیرے ہونٹوں کا بے نام سا ذائقہ یاد آیا نہیں رات میں نے تو خود کو بھی حیرت زدہ کر دیا تھا مجھے کیا خبر تھی کہ میرے دروں میں کوئی جوف ہے جو سمندر کو پی کر بھی نہ بھر سکے گا عجب آدمی ہوں! کہ میں بیسیوں قسم کی گھاس پہچانتا ہوں، ہوا میں رطوبت کی مقدار سے کن مزاجوں پہ کیا رنگ چڑھتا ہے/ میں جانتا ہوں مگر اب تلک اپنے اوصافِ اسفنج سے نابلد تھا ابھی صبحِ صادق کی کرنوں کے ہاتھوں نچوڑا گیا ہوں تو اک کھوکھلے پن کے احساس سے بھر رہا ہوں کوئی تشنگی ہے کہ میں چاہے گَلگَل نچوڑوں، زباں اپنے دانتوں سے کاٹوں، بہت تیز سر کے کی بوتل چڑھاؤں، وہ بے نام سا ذائقہ یاد آتا نہیں!