سرمد سروش

سرمد سروش

جہانِ مور

    یا علیم و یا حکیم!! سوچتا ہوں چیونٹیوں کے بعد شاید آدمی کا جنم لا یعنی سا ہے یہ لکیروں کی فقیری یہ قلی گیری کے کام اک جدوجہدِ جبلی ہے مدام صبح خوراکی کے نام شام خوراکی کے نام چیونٹیوں سے زندگی کی غایتِ اولیٰ تمام چیونٹیوں نے پائی ہے منزل کی بو آدمی میں کاوشِ مصدر کی خو ایک ہے معلول میں/ اور دوسراعلت میں گم کام نہ آئے خزاں بسری میں جو، آدمی اُس کام کی ذلت میں گم آدمی کی عقل خام اکتساب آدم کا کام مور موروثی علام ہے بلند اُس کا مقام شوقِ استفہام میں یاں آدمی بدنام ہے یہ جہانِ مور ہے یاں آدمی ناکام ہے