نزار قبانی

نزار قبانی

الفاظ کے ساتھ رقص

    الفاظ کے ساتھ رقص

    نزار قبانی

    شاعری کی تشریح کے لیے میرے پاس کوئی نظریہ نہیں ہے۔ اگر میں کوئی نظریہ رکھتا تو میں شاعر ہرگز نہ ہوتا۔ درحقیقت فعل کی معرفت ہمارے فعل کو معطل کر دیتی ہے، جیسے قدموں کی حرکت کی طرف متوجہ ہونے والا اُسی میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ شاعری رقص ہے، اور اس کے بارے میں گفتگو کرنا ایسا ہی ہے جیسے قدموں کے نشانات کی نگرانی کی جائے۔ میں صرف اور صرف رقص کرنا پسند کرتا ہوں۔ اپنے قدموں کے نشانات کی پیمائش میرے نزدیک کبھی کوئی معنی نہیں رکھے گی؛ محض یہ خیال ہی کہ میں کیا کر رہا ہوں میرا سارا توازن بگاڑ دے گا۔

    میں پھر دہراتا ہوں کہ شاعری الفاظ کے ساتھ رقص ہے۔ شاعری بدن کے تمام اجزا کے ساتھ کیا جانے والا رقص ہے؛ اس کے تمام ارادی اور غیرارادی تفکرات کے ساتھ، اس کی تمام ظاہری اور پوشیدہ صورتوں کے ساتھ، اس کے تمام ممکن اور غیر ممکن خوابوں کے ساتھ، اور اس کی تمام معقول اور غیر معقول پیش بینیوں کےساتھ۔

    جو لوگ نثر لکھتے ہیں ۔ کوئی کہانی، ناول یا اسٹیج ڈراما ۔ وہ کوئی مشکل نہیں جھیلتے۔ ایسے لوگ فطری انداز میں چلتے ہیں۔ کاغذ پر ان کا متحرک قلمی سفر منطقی اور سوچے سمجھے انداز میں ہوتا ہے۔ وہ ایسے راستوں پر چلتے ہیں جو چلنے والوں کے لیے مخصوص کر دیے گئے ہوں۔ جہاں تک شعرا کا تعلق ہے، وہ ایسا جنونی رقص کرتے ہیں جس میں رقاص اپنے جسم سے آگے جا نکلتا ہے اور لگی بندھی تال سے تجاوز کر جاتا ہے ، یہاں تک کہ خود ایک نئی تال میں ڈھل جاتا ہے۔ میں شعر لکھتا ہوں، مگر نہیں جانتا کہ کیسی؛ بالکل اسی طرح جیسے مچھلی نہیں جانتی کہ وہ کیسے تیرتی ہے، اور پرندہ نہیں جانتا کہ وہ کیسے اُڑتا ہے۔

    شاعر اپنی شاعری میں الزامی یا جبری صورت میں موجود ہوتا ہے۔ وہ شعر کے ساتھ بندھا ہوا اور اس میں قید ہوتا ہے؛ ایسے ہی جیسے مچھلی اپنے سمندر میں ہوتی ہے اور اس سے نکلنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ شعر سے شاعر کی اور پانی سےمچھلی کی آزادی صرف موت کی صورت میں ممکن ہے۔

    جب تک شاعر کے اندرشعر، شعلہ فشاں کانسی کے نیزے کی صورت کاشت ہو رہا ہے، اس کے لیے یہ جاننا بہت مشکل ہے کہ اس نیزے کا حدود اربعہ کیا ہے۔ حقیقی حدود تو نیزہ لگنے کے نشان کی ہی ہوتی ہے، کہ گوشت اور نیزہ ایک شے بن چکے ہوتے ہیں۔

    شاعر کے لیے یہ بات جاننا کہ اس کے اندر کیا ہو رہا ہے، نہایت دشوار کام ہے؛ یہ وہی مشکل ہے جو پھول کو اس وقت پیش آئے گی جب وہ اپنی خوشبو سونگھنے کی کوشش کرے یا پھر اُن ہونٹوں کو جو خود ہی کو چومنا چاہیں۔ چناں چہ میرے پاس اس زلزلے کو بیان کرنے کے لیے کوئی نظریہ نہیں جو میرے وجود کے اندر ہلچل پیدا کرتا ہے کہ یہ کس جانب سے آتا ہے اور پھر کس سمت کو چلا جاتا ہے۔ اس زلزلے سے میری ملاقات اس حال میں ہوتی ہے کہ میں بالکل سپردگی اور مدہوشی کی کیفیت میں ہوتا ہوں، اور جب اپنی راکھ اور تباہ حال وجود  سےباہر نکلتا ہوں تو مجھے کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیا کچھ ہو گیا۔ جس طرح زلزلے کا وقت نہیں معلوم ہوتا اسی طرح شعر کے ظہور کا وقت بھی نہیں بتایا جا سکتا؛ بس اچانک ایک حملہ ہوتا ہے جو ہماری سکون کی حالت اور وجود میں گہرا گڑھا پیدا کر دیتا ہے، اور اس سے پہلے کہ ہم اسے جان سکیں، یہ واپس ہو لیتا ہے۔یہ پہلا نقش ہے جو اُبھرتا ہے؛ اور یہ معاملہ میرے ساتھ خاص ہے، ممکن ہے کسی اور شاعر کا تجربہ مجھ سے بالکل مختلف ہو۔ اسی بنا پر میں کہہ رہا ہوں کہ شاعری کے لیے کوئی مخصوص نظریہ نہیں ہوا کرتا ۔ ہر شاعر کے ساتھ اس کا اپنانظریہ ہوتا ہے۔

    شاعری، خوش کن آواز میں ہنہنانے والا ایک گھوڑا ہے۔ ہر شخص اس پر اپنے طریقے سے سواری کرتا ہے۔ میرا طریقہ یہ ہے کہ میں اپنے گھوڑے کو تکلیف نہ   دوں، اسے ناہموار، کیچڑ بھرے یا تاریک راستے پر چلنے کے لیے مجبور نہ کروں۔ شہ سواری کی اپنی اخلاقیات ہوتی ہے۔ میں اپنے نفس کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی ایسے شاعر کا مذاق اڑائے جو شہ سواری میں غلطی کر رہا ہو۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسے شاعر کے لیے کوئی عُذر ڈھونڈ نکالوں۔ شعری گھوڑا میرا دوست ہے۔ حقیقی شہسوار گھوڑے کے ساتھ دوستی میں خیانت نہیں کرتا۔ میں اپنے گھوڑے کے خیالات سے خوب واقف ہوں؛ میں اس کی پیشانی چومتا ہوں، اس کا پسینہ پونچھتا ہوں، تمام راستے اس سے باتیں کرتا جاتا ہوں اور اس کا منہ بادام اور کشمش سے بھر دیتا ہوں۔

    لیکن شاعری سکونت پذیر ہے کہاں؟ جب کبھی میں نے شاعری کی جاے سكونت جاننے کے لیے اس کا تعاقب کیا، وہ مجھ سے بھاگ نکلی۔ تیس سال ہو گئے، میں کوشش میں ہوں کہ اسے اچانک اس کے زیریں جامے کے ساتھ یا بے لباس دیکھ لوں لیکن وہ ہر بار جادوئی ٹوپی پہن کر غائب ہو جاتی ہے اور ایک پاکیزہ روح کی مانند تحلیل ہو جاتی ہے۔ میری خواہش رہی ہے کہ اس پر اُس وقت حملہ کر دوں جب وہ اپنی شیشیوں ،تھیلیوں اور رنگ دار پنسلوں کے درمیان موجود ہو۔ لیکن وہ ہر بار خطرہ محسوس کر لیتی ہے اور جس کارگاہ میں مصروف کار ہوتی ہے اسے تہہ و بالا کر کے وہاں سے رفوچکر ہو جاتی ہے۔

    شاعرى كو اُن خفیہ خانوں میں جو اس کی پناہ گاہیں ہیں، اور اُن تمام جھوٹے عنوانوں میں جو لوگوں نے اسے دے رکھے ہیں، تیس سال تک تلاش کرنے کے بعد میں نے دریافت کر لیا ہے کہ یہ ایک دیومالائی مخلوق ہے جسے کسی انسان نے نہیں دیکھا۔ البتہ لوگوں نے زمین پر اس کے قدموں کے اور کتابوں میں اس کی انگلیوں کے نشانات ضرور دیکھے ہیں۔ جو حضرات شاعری کے بارے میں لکھ چکے ہیں وہ جانتے تھے کہ وہ ایک دیومالائی مخلوق کی تلاش میں سرگرداں رہے تھےجسے نہ پکڑا جا سکتا ہے نہ ہی اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ براعظموں، جنگلوں اور سمندروں میں اسے ڈھونڈنے والے تمام لوگ جانتے تھے کہ یہ خوبصورت وحشی جانور انہیں اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ یہ لوگ اس کی کھال میں سوئیاں چبھو کر اسے عجائب گھروں، جامعات اور مدارسِ ثانویہ کی دیواروں پر لٹکا دیں۔

     صدیوں سے یہ بازیچۂ محال جاری ہے۔ شکاری اپنا جال ڈالے بیٹھے اسے ہلاجُلا رہے ہیں، اور شاعری ... خوبصورت وحشی جانور ... چھلانگ لگا کر درخت پر چڑھ جاتی ہے، کبھی چاند پر پہنچ جاتی ہے اور کبھی دوشیزاؤں کے گیسوؤں پر ڈیرے ڈال دیتی ہے اور پھر اپنے شکاریوں کے سامنے زبان نکال کر ان کا منھ چڑاتی ہے۔

    اگر شاعری کوئی طبّی نسخہ ہوتی تو عطاروں کی دکانوں پر اس کی تیاری ممکن ہو جاتی۔ اگر نظم کوئی درخت ہوتی تو ہم اس کے پتّوں، شاخوں اور تنوں سے اس کی تاریخ کا پتا چلا لیتے۔ اگر یہ کوئی پتھر ہوتی تو ہم لیبارٹری جانچ کے بعد اس کی تمام تاریخ سے واقف ہو جاتے۔ لیکن شاعری تیزی سے پھیل کر بخارات بن جانے والا ایک سیّال ہے۔ انسانی کوشش ایسی سکونت کے احوال تک رسائی حاصل نہیں کر سکتی جو چھوٹے چھوٹے آبخوروں اور ظروف میں قیام پذیر ہو۔

    شاعر ایک کاتب ہے لیکن وہ کیمیاے کتابت کی سب سے بُری وضاحت کرنے والا ہے۔ وہ اپنے کاغذی طوماروں پر جان دے دیتا ہے لیکن اپنی شاعرانہ موت کی وضاحت کرنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ اگر ہم شیکسپیئر سے مطالبہ کرتے کہ وہ اپنے اس طریقے کی وضاحت کرے جس کی مدد سے اس نے ہیملٹ لکھا تھا تو وہ پس و پیش کرتا۔ اگر ہم بیتھوون سے پوچھتے کہ وہ ہمیں اپنی نویں ،پانچویں یا تیسری سمفنی بنانے کے بارے میں بتائے تو وہ حیرت میں گرفتار ہو جاتا۔ اگر ہم روبنس، ماتیس، وان گوف ،گویا اور الگریکو سے رنگوں اور ان کے عکسی ملاپ کے متعلق سوال کرتے تو وہ ایک دوسرے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگتے۔

    شاعری کے معاملے میں تو یہ پریشانی دوچند ہو جاتی ہے۔ دوران شاعری شاعر پر کیا گزرتی ہے، یہ بتانا اس کے لیے ناممکن ہے؛ اس عمل سے گزرنے کے بعد تو شاید وہ اسے یاد بھی نہ کر سکے۔ جن شعرا نے شاعری سے متعلق اپنے تجربے بیان کیے ہیں وہ بھی شاعری کے گرد چکر ہی لگاتے رہے اور اس کا ٹرائے جیسا حصار کرنے کے بعد بھی نظموں کے... یعنی ان کی راکھ کے ... کھنڈرات پر کھڑے نظر

    آئے۔

    شاعری سے متعلق ہر تلاش راکھ کی تلاش ہے نہ کہ آگ کی۔ یہ مقدمہ اپنی ما بعد الطبیعیات اور رومانیت میں جتنا ڈوبتا جائے گا اتنا ہی شاعری کے حقیقی چہرے کو روشن کرنے میں ناکام رہے گا۔ لیکن شعری حقیقت ہے کہاں؟ اس کی صورت کیا ہے؟ یہ کس شہر میں اور کس شاہراہ پر قیام پذیر ہے؟

    کس طرح ممکن ہے کہ میں موضوعی ہو جاؤں جب کہ میں خود موضوع ہوں؟کس طرح ممکن ہے کہ میں اپنے زخم کے پھیلاؤ کے بارے میں آپ کو بتاؤں جب کہ میں خود زخم ہوں