نزار قبانی

نزار قبانی

میرا پہلا مدرسہ

    میرا پہلا مدرسہ

    نزار قبانی

    میرا پہلا مدرسہ ، نیشنل سائنس کالج، دمشق میں تھا۔ میں سات سال کا تھا جب اس میں داخل ہوا اور اٹھارہ سال کی عمر میں ادب میں اپنی پہلی ڈگری حاصل کی ۔ یہاں سے نکل کر میں مدرسۃ التجہیز منتقل ہو گیا جہاں میں نے فلسفے میں دوسری ڈگری حاصل کی۔

    مدرسہ جس جگہ واقع تھا وہ نہایت اہم مقام تھا۔ اسے دمشق کے قدیم شہر کے قلب میں، جہاں ہم رہتے تھے، تعمیر کیا گیا تھا ۔ اس کے اطراف میں اُموی دور کی جامع مسجد کے بلند مینار اور گنبد تھے۔ قصرِ عظم اپنے سنگِ مرمر، آبپاشی کے حوضوں، نیلگوں ،تالاب، دروازوں اور چوبی چھتوں کے ساتھ پوری آب و تاب سے جلوہ گر تھا۔ ان چوبی چھتوں پر دمشقی نجاروں کی انگلیوں نے قرآنی آیات اور دوسرے ایسے بیش بہا نقوش چھوڑے تھے کہ چوب کاری کی تاریخ نے آج تک ایسا پُرجلال فن نہ دیکھا ہو گا۔ مدرسے کے اطراف، طلائی کنگنوں کی مانند، دمشق کے سایہ دار بازار تھے: حمیدیہ بازار، مدحت پاشا بازار، زرگری بازار، ریشمی بازار ،بزوریہ بازار، درزیوں کا بازار، روئی بازار اور بازارِ نسواں۔ اسکول ہمارے گھر سے چند قدم کی دوری پر تھا۔ ایسا لتا جیسے مکان ہی کا آگے کو نکلا ہوا ایک حصہ اور اس کے کمروں میں سے ایک کمرہ ہو۔ چناں چہ ہمارے اسکول کا راستہ پوری طرح اپنے شامی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔

    بزوریہ بازار دواؤں اور مسالوں کا بازار تھا اور عطر فروشوں کی قلمرو بھی۔دمشق کے بازاروں میں یہ وہ بازار تھا جس کا سب سے زیادہ اثر میری قوتِ شامہ اور روح پر ہوا۔ میرے کپڑے اس کی خوشبوؤں سے آج بھی مہک رہے ہیں، مثلاً کالی مرچ، دارچینی،   گلاب،کستوری ، زعفران ،بابونہ ،سونف اور ہزاروں پودے اور عمدہ جڑی بوٹیاں جن کے مجھے اب صرف رنگ ہی یاد رہ گئے ہیں، نام نہیں۔ بزوریہ کے بازار سے اسکول آنا جانا ایسا معلوم ہوتا جیسے خوشبوؤں میں بسے بادلوں پر سفرِ شبانہ ہو۔ واپسی پر بزوریہ بازار سے ملحق اپنے والد کے کارخانے سے ہو کر گزرنا ہمارا معمول تھا اور ان کی دست بوسی کا ایک موقع بھی؛ ہم اپنے بستے اور جیبیں مونگ پھلی اور پستے سے تیار کردہ لذیذ اور خوش ذائقہ چیزوں سے بھر لیتے اور یوں لذّتِ کام و دہن کا سامان کرتے۔ چناں چہ اسکول کا راستہ قوت شامہ اور زبان دونوں کے لیے اشتہا انگیز ہوتا۔ مغرب کے وقت ہم اسکول سے گھر لوٹتے جہاں ملکۂ عالیہ یعنی ہماری والدہ صاحبہ موجود ہوتیں - ہم ان کی اعلیٰ رعایا جو تھے!

    نیشنل سائنس کالج، جس نے ثقافتی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، ایک اہم قومی اداره تھا جہاں دمشق کے چھوٹے بورژوا طبقے سے تعلق رکھنے والے تاجروں ،کاشتکاروں، ملازمت پیشہ افراد اور صنعت و حرفت سے وابستہ لوگوں کے بچے جاتے تھے۔ نیشنل سائنس کالج مشنری اسکولوں کے وسط میں واقع تھا۔ اس کالج نے مکمل طور پر فرانسیسی طریقۂ تعلیم اپنا رکھا تھا، جس طرح الفزیر (1) اور لا ییک اسکولوں کا حال تھا، جب کہ روایتی مدرسۃ التجہيز نے عربی زبان ہی کو اپنا رکھا تھا۔ یہ ہمارے والد ہی تھے جن کے قومی اور اسلامی احساسات نے اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ہمیں ایسے اسکول میں بھیجنے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا جہاں دونوں ثقافتیں یکجا ہو گئی تھیں۔

    والد صاحب کو ایک طرف قومی شناخت سے جڑے رہنے کے التزام نے، اور دوسری طرف ان کی اس بات سے رغبت نے کہ ہماری زبان میں دوسری زبان کی چاشنی بھی ہو اور وہ دنیا کے لیے چشم براہ بھی رہے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اعتدال پسندی کی راہ اپنائیں اور ملّی اور تمدنی میدانوں میں بیک وقت تصرف کریں۔ اس طرح معتز ،رشید ،صباح ،ہيفاء اور میں ،نیشنل سائنس کالج میں داخل ہوئے اور ہم نے وہاں درسی نشستوں پر عمر کے حسین ترین ایام گزارے۔

     فرانسیسی میری ثانوی زبان تھی کیوں کہ فرانسیسی قبضے کے زمانے میں نظام تعلیم فرانسیسی زبان کو مرکزی اہمیت دیتا تھا اور ہمیں مجبور کرتا تھا کہ ہم اسے بولنے اور لکھنے میں مہارت حاصل کریں۔ اسی طرح ہمارے اساتذہ کا تعلق بھی فرانس ہی سے ہوتا تھا۔ لازمی متون اور دوسری کتابیں ،شاعری ،علوم ریاضی، اور تاریخ، سب فرانسیسی میں تھیں اور فرانسیسی نصاب کے مطابق تالیف کی گئی تھیں۔

    ہم فرانسیسی ثقافت کے زیرسایہ پروان چڑھے۔ کھیل کے میدان میں ہم سزا کے خوف سے فرانسیسی زبان میں گفتگو کرتے؛ سزا عبارت تھی ایک چھوٹے چوبی ٹکڑے سے جسے ’سگنل‘ کہا جاتا تھا۔ یہ ٹکڑا اُسے تھما دیا جاتا جس کی زبان سے عربی کا ایک لفظ بھی ادا ہوتا۔ یہ چوبی ٹکڑا ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں گردش کرتا، دن کے اختتام پر جس کسی کے ہاتھ میں یہ ٹکڑا رہ جاتا اس کی سزا یہ ہوتی کہ وہ تمام طلبا کے اسکول سے چلے جانے کے بعد فرانسیسی شاعری کے پچاس اشعار زبانی یاد کرے۔ ظلم کی ان مختلف اقسام سے نفرت کے باوجود جن کا سامنا مجھے اپنے بچپن میں کرنا پڑا، میں اس سزا کو اُن سزاؤں میں خوبصورت ترین شمار کرتا ہوں ۔ یہ تھی وہ فضا جس میں ہم پروان چڑھے ،راسین ،مولیئر ،کورنائی ،موسے، دووینی، ہیوگو، الکساندر دوما، بودلیر، پال والیری اور آندرے موروا کی ادبیات کو ان کی اصلی زبان میں پڑھتے اور فرانسیسی ادب کے چشموں کا ذائقہ چکھتے ہوئے۔ اس فرانسیسی بنیاد نے ہمیں یورپی فکر میں داخلے کا پروانہ عطا کر دیا، اور ہمیں اجازت دی کہ پیرس دیکھنے سے پہلے ہم کامیدی فرانسیز کے مقصوروں (ہالوں) میں سے ایک مقصورے میں جا بیٹھیں۔

    ہر قسم کے قومی تعصب اور قبائلی تفاخر سے بالاتر ہو کر، اور ایسی ہر فکر پر اعتراض کرتے ہوئے جو نوآبادکار اور اس کی زبان کو لازم و ملزوم کر دیتی ہے، میں یہی کہوں گا کہ زبان انسانی اور تمدنی ثمر کی مانند ہے؛ اس کی سیاسی وابستگیاں نہیں ہوتیں، اور نہ ہی توسیع پسندانہ عزائم ہوتے ہیں، اسی لیے رینوار، نپولین کی حماقتوں کا ذمہ دار نہیں ہے، نہ ہی جرنیل گوراو ..... فاتح شام ..... کی آنکھیں اراگون (الزا کی آنکھیں) ہیں۔

    نیشنل سائنس کالج کا تعلیمی معیار کافی بلند تھا۔ ہمارے اساتذہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے۔ وہ عظیم شعرا اور مفکرین میں سے تھے۔ مجھ پر اور میری شاعری پر اللہ کا فضل ہے کہ میں جس   معلّمِ ادب کا شاگرد رہا وہ شام کے لطیف طبع اور عمدہ شاعروں میں سے تھے، یعنی استاد خلیل مردم بک۔ انہوں نے مجھے پہلی ہی نظر میں شاعری کے ساتھ باندھ دیا جب ادب کے پہلے ہی درس کے دوران انہوں نے ہمیں سنہری لڑی جیسا صیقل کلام املا کرایا۔

    ان التی زعمت فؤادك ملها

    وہ سمجھتی ہے کہ تیرے دل نے اسے ملول کر دیاہے

    خلقت هواك كما خلقت ھوی  لھا

    حالاں کہ وہ تیری محبت بن کر پیدا ہوئی ہے اور تو اس کی

    منعت تحيتہا فقلت لصاحبی

     جب وہ سلام سے مانع رہی تو میں نے اپنے ساتھی سے کہا

    ما كان اكثرها لنا ___ واقلها

    اس کا ہمیں سلام کرنا کتنا زیادہ ہے ___ اور کتنا کم بھی! (2)

    خلیل مردم ہر سبق میں ہمارے لیے شجرِ شاعری سے درجنوں تروتازہ گلاب چنتے رہے حتیٰ کہ سال کے اختتام تک ہمارے حافظے سبز ، زرد اور سرخ رنگوں سے بھرے لہلہاتے باغ میں تبدیل ہو چکے تھے۔ اس عظیم شاعر نے اپنے بے بہا شعری ذوق اور لطیف احساس کے ذریعے ہمیں جاہلی شاعری کے سنگلاخ راستوں اور خاردار صحرائی جھاڑیوں سے بیگانہ کر دیا، اور سایہ دار گزرگاہوں اور عربی شاعری کے نخلستانوں کی جانب ہماری رہنمائی کی، جس نے ہمیں سفر کی تمام کُلفتیں بھلا دیں۔

    یہاں میں یہ نکتہ ضرور بیان کروں گا کہ عربی مدارس اور وہاں پڑھائی جانے والی عربی ادبیات طلبا کا ادبی ذوق بڑھانے یا گھٹانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مدرس ہی ساعتِ ادب کو ساعتِ اذیت و تعذیب بناتا ہے اور مدرس ہی اس مضمون کو پڑھاتے ہوئے اسے باغ گلنار بنا دیتا ہے اور درس میں پڑھائے جانے والے خشک مواد کو چاندنی میں کی جانے والی سیر میں بدل دیتا ہے۔

    خوش قسمتی سے میرا شمار ان شاگردوں میں ہوتا ہے جن پر شعری حساسیت مالامال اس شاعر کی عنایت رہی جنہیں اس نے چاندنی میں کی جانے والی سیروں میں اپنے ساتھ رکھا اور ایسے طلسماتی جنگلوں سے آشنا کیا جہاں شاعری سکونت پذیر ہے۔ میں شاعری کے اس بیش بہا خزانے کے لیے بھی خلیل مردم بک کا رہین منت ہوں جسے انہوں نے میرے ذہن کے نہاں خانوں میں بسا دیا ہے۔ اگر ذوقِ شعری وہ معجون ہے جو ان اشیا سے متشکل ہوتا ہے جنھیں ہم بچپن میں دیکھتے، سنتے اور پڑھتے ہیں، تو یہ فضلِ عظیم خلیل مردم کو حاصل ہے کہ انہوں نے میری روح میں گلاب کاشت کیے اور میرے خلیوں اور رگوں میں شعری خمیر تیار کیا۔

    میں ان ابتدائی تاثیرات میں اپنے اس لبنانی مطالعے کا بھی اضافہ کروں گا جو میں نے انیس سو چالیس کی دہائی میں کیا تھا، مثلاً امین نخلہ (2) کی مفكرة ريفیۃ(گاؤں کی یادداشتیں)، بشارت الخوری، (3)  الیاس شبکہ، (4)  صلاح لبكی، (5)  سعيد عقل، (6) اور یوسف غصوب (7)  کے ادبی باغات، میشال طراد (8) کی لوک داستانیں اور الیاس خلیل زخریا (9) کی خزفیات (ملمع شده عامیانہ نگارشات) پھر میں اس بے حرکت شعری دشت سے نکل کر بحر ِکبیر کی طرف آ گیا جو اپنے تمام امکانات اور جولاں گاہوں کے ساتھ موجود تھا۔

    جہاں تک انگریزی کا تعلق ہے اسے میں نے شامی سفارت کاری کے دوران (1952-1955) اس کے وطن لندن میں سیکھا تھا۔ انگریزی زبان کا مزاج قدرے مختلف ہے اور اس کی خصوصیات بھی دوسری طرح کی ہیں۔ انگریزی زبانِ طرب سے زیادہ زبانِ حقیقت ہے۔ اس زبان میں ہارمنی والے اس آہنگ کا فقدان ہو سکتا ہے جیسا اطالوی زبان میں ہے، لیکن یہ آپ تک مفہوم ٹھیک ٹھیک اور پوری وضاحت کے ساتھ عربی علم بلاغت کی تعبیر کی حد تک منتقل کر دیتی ہے (حال کے ساتھ اس کی موافقت ہوتی ہے)۔

    انگریزی زبان آرام ده نشست سے مشابہ ہے جس کے نزدیک ظاہری حسن اتنا اہم نہیں جتنا نشست کی چوبی مضبوطی اور داخلی بھرت اہم ہے۔ اگر ایک جملے میں کہا جائے تو یہ اقتصاد اور قانون سازی کی زبان ہے۔ یعنی یہ زبان مافی الضمیر کو بغیر کسی درازگوئی ،حشو و زوائد اور تزئین و آرائش کے ادا کر دیتی ہے۔ میں نے اس زبانِ اقتصاد سے، جو تہوّر و اسراف سے واقف نہیں، بہت فائدہ اٹھایا۔ میں نے اپنی شاعری میں انگریزی قانون سازی کے اصول کو تطبیق دینے کے تجربات کیے ہیں۔ تاہم ایسے ہر لُغوی بوسیدہ لباس سے پہلوتہی کی ہے جو نظم عربی کے بدن میں بگاڑ پیدا کرے، یا جو اسے ہزاروں چربی نما الفاظ اور ایسی تراکیب کے ساتھ لٹکتا چھوڑ دے جن کی کوئی غذائی قدر و قیمت نہیں۔ میری نظموں کے دو مجموعے، اور جو مجموعے ان کے بعد شائع ہوے، مثلاً حبيبتی (میری محبوبہ) اور الرسم بالكلمات (الفاظ سے تصویرکشی)،  ان سب پر انگریزی زبان کے اہم اثرات موجود ہیں اور ان کا تعلق زبان کی منطق سے ہے اور اس بات سے کہ انگریزی کے ساتھ کس طور معاملہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک نظم ’’حبلی‘‘ (حاملہ) میں میں نے ڈرامے کی زبان اور اسٹیج کے مکالموں کو برتا ہے اور وہ اس طرح کہ زبان کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ اپنے فطری حجم سے بڑھ جائے اور اصل تصور کی قیمت پر زبردستی دراز ہوتی چلی جائے۔

    یہ لغوی منطق آج تک میرا پیچھا کر رہی ہے، خاص کر میری پُرحزن نظموں میں جیسے ’’ھوامش على دفتر النكسۃ‘‘ (شکست نامے پر حاشیے) اور ”الممثلون و  الاستجواب‘‘ ( فنکار اور جواب طلبی)۔ یہ نظمیں بلاغت کی قدیم سجاوٹ اور طلائی چوکھٹوں سے مکمل طور پر خالی ہیں۔ یہ نظمیں افریقی دریاؤں کی مانند نمایاں اور حقیقت کی مانند برہنہ ہو کر لوگوں کی جانب پیش قدمی کرتی ہیں۔

    ’’شکست نامے پر حاشیے‘‘ کی زبان صحافت کی گرماگرم رپورتاژ کی زبان ہے جو پہلی بار ہی اپنے پڑھنے والوں کو صدمے سے دوچار کر دیتی ہے۔ نظم پڑھنے کے بعد لوگوں نے اسے نہ صرف جاحظ، حریری اور عبدالحمید الکاتب کی بلاغت کے دائرے سے باہر قرار دیا بلکہ اسے میری اپنی اس شعری زبان سے بھی انحراف گردانا جو میں نے تیس سال قبل لکھی تھی، یعنی اپنی ابتدائی نظمیں جیسے ”طفولۃ نهد“ (پستان کا بچپن) اور ’’انتِ لی“ (تم میری ہو) اور’’ سامبا‘‘۔

    جہاں تک میرا معاملہ ہے، زبان کی اس ہیئت تک پہنچ جانے پر میں پُرجوش اور مسرور تھا۔ میرے جوش اور مسروریت میں کہنے والوں کی اس بات سے کمی نہ ہوئی کہ میں نے وہ ریشمی چادر کھو دی ہے جس سے چالیس کی دہائی میں میری نظمیں ملبوس ہوا کرتی تھیں۔ میرے دوست احباب بھی افسوس اور ملال کا اظہار کرنے لگے کہ میں نے دمشقی ریشمی لباس کیوں اُتار پھینکا اور سوتی زبان کیوں اوڑھ لی جو اپنے دعوے اور قیمت میں کم اور حرارت میں زیادہ ہے۔ لیکن مجھے اپنے شعروں میں نقش و نگار اور گل بوٹوں کے ختم ہو جانے پر کوئی افسوس و ملال نہ تھا۔ اپنے حُسن و جمال اور تابانی میں ڈوبا میری شاعری کا یہ شاندار دور اب اپنی اغراض پوری کر چکا تھا۔ عہدِ اشتراکیت میں داخلے اور طبقاتی سرمایہ دارانہ اداروں کے سقوط کے بعد اب یہ دور اپنی اہمیت کھو چکا تھا۔ اس کے برعکس، میں خود کو کیف و سرور میں ڈوبا محسوس کر رہا تھا کہ عملِ شاعری سے گزرنے کے تیس سال بعد میں دیکھ سکتا تھا کہ میرے قدیم خوابوں نے اب کیا صورت اختیار کر لی ہے، اور کس طرح نظم کی شعری بنیاد اب وسعت اختیار کر کے، عربی شاعری کی تاریخ میں پہلی بار، نان اور روزناموں کی صورت میں ڈھل گئی ہے۔ ’’طفولۃ نہد‘‘ کی زبان کا ’’هوامش على دفترالنكسۃ“ کی زبان میں بدل جانا ایک لازمی تبدیلی تھی جسے زبان کی فزیالوجی، اس کی کیمیائی اور عضوی نمو، بذاتِ خود ضروری قرار دے رہی تھی۔

    زبان مسلسل حرکت میں رہتی ہے، چاہے ہم اس کی یومیہ حرکت کو مکمل طور پر محسوس نہ کریں، جیسے ہم کرۂ ارض کی حرکت کو محسوس نہیں کرتے۔ جو شخص اس زبان کی حرکت کا یقین کرنا چاہتا ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ عرب بچوں کی گفتگو سُنے اور دیکھے کہ کس طرح اُن کے الفاظ ہمارے الفاظ سے اور اُن کے ادا کرنے کا طریقہ ہمارے طریقے سے مختلف ہے۔

    ہر نیا دن ہمارے ساتھ ایک نئی زبان اُٹھائے چلا آتا ہے۔ ہر بچہ جو اپنا بستہ اُٹھائے مدرسے جاتا ہے وہ اپنے والدین کی زبان اور کلامی جبلتوں کے سامنے ایک حقیقی چیلنج پیش کرتا ہے۔ زبان کے ساتھ اپنے روزمرہ کے معاملے کی وجہ سے شاعر اس بات کی زیادہ اہلیت رکھتا ہے کہ وہ اپنے روبرو ہونے والے زبان کے بھونچالوں اور چھوٹے چھوٹے دھماکوں کا زیادہ احساس کر سکے۔ اسی وجہ سے وہ آئے دن ان بھونچالوں کو اپنے صفحات پر رقم کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو شاعری کی عدالت میں دروغ گوئی کا گواہ بن جائے جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ یہ شعرا ہی ہیں، نہ کہ ماہرینِ لغت و نحو یا اساتذه ٔانشا ،جو زبان کو حرکت دیتے ہیں اسے ارتقائی مراحل سے گزارتے ہیں، متمدن بناتے ہیں اور عصری شناخت عطا کرتے ہیں۔ زبان کے ورثے سے نبرد آزما ہونے کا یہ کٹھن کام غیرمعمولی حوصلے کا تقاضا کرتا ہے، اور ایسی نادر جرأت کا جو قانونی اور غیرقانونی الفاظ کے درمیان حائل خوف کی دیوار کو توڑ سکے اور جو کچھ اس مٹی تلے دبا ہے اسے شاعری میں بدل سکے۔

     ہر تخلیقی عمل ایک مہم جوئی ہوتا ہے۔ جو شاعر اپنی زبان کے ساتھ ہر روز کسی نئی مہم جوئی کا حصہ نہیں بنتا وہ خود کو چاک سے بنے کسی دائرے میں محبوس کر لیتا ہے جو روز بہ روز تنگ ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے ہلاک کر دیتا ہے۔

    جب میں قصائد متوحشۃ (وحشی نظمیں) نامی مجموعہ ترتیب دے رہا تھا اور طباعت سے پہلے اس کے مسودے کا جائزہ لے رہا تھا تو مجھ پر اپنی ایک نظم ’’الى صامتۃ‘‘ (خاموشی کی طرف) پڑھتے ہوے حیرت اور جھرجھری طاری ہو گئی :

    تكلّمی حبيبتی عمّا فعلتِ اليوم

    بتاؤ، اے میرے محبوب ، وہ سب جو تم نے آج کیا ہے

    أیّ كتاب - مثلاً - قرأتِ قبل النوم؟

    مثلاً کون سی کتاب تم نے سونے سے پہلے پڑھی تھی؟

    أين قضيت عطلۃ الأسبوع؟

    تم نے ہفتہ وار تعطیل کہاں گزاری؟

    وما الذی شاهدت من أفلام؟

     کون سی فلم تم نے دیکھی؟

    بأی شط كنتِ تسبحين؟

    کس تالاب میں تم پیراکی کرتی رہیں؟

    هل صرت لون التبغ والورد ککل عام

    ہرسال کی طرح کیا (اس برس بھی) تمہارا بدن تمباکو اور گلاب کے رنگ میں ڈھلا  ہے؟

    تحدثی.. تحدثی ..

    بتاؤ .. بتاؤ ۔

    من الذی دعاك هذا السبت للعشاء؟

     اس بار ہفتے کے روز تمہیں کس نے طعام شب کےلیے مدعو کیا تھا؟

    بأی ثوب كنتِ ترقصين؟

    کس لباس میں تم محوِ رقص ہوئی تھیں؟

    وأی عقدٍ كنتِ تلبسين؟

    تم نے کون سا گلوبند پہنا ہوا تھا؟

    فكل أنبائكِ يا أميرتی

    اس لیے کہ تمہاری سب خبریں، اے میری شہزادی

    أميرة الأنباء..

    خبروں کی شہزادی ہیں

    اس کلام کے آگے میں کافی دیر تک رُکا رہا۔ میں سوچتا رہا کہ کیا لوگ مجھے عربی بلاغت کی تاریخ کے خلاف سوچی سمجھی جارحیت پر معاف کر دیں گے؟ وہ بلاغت عربی جو شکوہ، انانیت اور عصمت کی علم بردار ہے، بلکہ یہ جارحیت تو بذاتِ خود شعری تاریخ کے خلاف ہے۔

    میرے یہ سوالات مجھے کچھ دوسرے سوالات کی طرف لے گئے: سادگی تاریخ کے خلاف جارحیت کیوں کر ہو سکتی ہے ؟ نظم کا عہدِ طفولیت اس کی ناپسندیدگی اور برہمی کا سبب کیونکر ہو سکتا ہے؟ کیا طفولیت کا بلاغت کے ساتھ کوئی تعارض ہے؟ کیا تاریکی ہی شاعر کی ہنرمندی پر مہر تصدیق ثبت کرنے اور اس کے نہاں خانوں کو مالامال کرنے کی بنیادی شرط ہے؟ دوسرے الفاظ میں کیا منظر کا دھندلا ہونا، ذرائع اور منظر تک پہنچنے کے راستے میں ابہام کا ہونا ہی شاعر اور شعر کی اہمیت کا اصل معیار ہے؟

    ایذرا پاؤنڈ، جو آزاد شاعری کے مکتب کا باوا آدم اور اس کا شہنشاہ ہے، اشیا کے ساتھ شاعری کے براہِ راست معاملہ کرنے پر زور دیتا تھا۔ وہ کسی ایسے لفظ کو استعمال کرنے سے انکار کر دیتا جو نظم کی صورت گری میں کوئی اضافہ نہ کرتا ہو۔ وہ ہمیشہ کہا کرتا، ’’ہمیں فکر کو چھپانے کے لیے زبان کو استعمال کرنے سے دکھ ہوتا ہے“۔ ایذرا پاؤنڈ کے نزدیک علمِ بیان ایسی شے تھی کہ اگر اُس کا بس چلتا تو اسے گولی مار دیتا۔

    ہسپانوی زبان میں نے میڈرڈ میں اپنی سفارت کاری کے دوران (1966-1962) سیکھی۔ مجھے پہلے ہی لمحے اس کے ساتھ قلبی لگاؤ پیدا ہو گیا۔ پھر ایسا وقت بھی آیا کہ ہسپانوی زبان سے میرا تعلق عشق کے درجے تک پہنچ گیا۔ اس زبان نے مجھے پوری طرح اپنی آغوش میں لے لیا، خاص کر اس وقت جب ہسپانوی مستشرق پیدرو مائینیز مونتاوس نے میری شاعری کے انتخاب کا ہسپانوی زبان میں ترجمہ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ یہ انتخاب ہسپانوی ثقافتی ادارے نے اشعار حب عربيۃ (عرب عشقيہ شاعری) کے عنوان سے شائع کیا۔

    مجھے اب بھی وہ شیریں لمحات یاد ہیں جو میں اپنے دوست پیدرو کے ساتھ میڈرڈ میں اپنے گھر پر گزارا کرتا تھا۔ اس دوران ہم گفتگو کرتے، مشورے کرتے اور ترجمہ کی گئی نظموں کے مسودوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے ہسپانوی زبان کی اس قدرت پر تعجب ہوتا ہے کہ وہ میرے جذبات و احساسات اور میرے خبط و جنون کو کس طرح درستی اور وضاحت سے منتقل کر دیتی تھی۔ اگر میں یہ کہوں تو ہرگز مبالغہ نہ ہو گا کہ میری بعض نظموں کا ہسپانوی متن اپنے حُسن و جمال اور نغمگی میں عربی متن پر فائق ہے۔ شاید اس بات کا تعلق خود ہسپانوی زبان کے مزاج اور اس کی آہنگ کی ترکیب سے ہو، اور اس زمانے سے ہو جب عربی اور ہسپانوی زبانیں اپنے ہنی مون میں سات سو برس ساتھ ساتھ رہیں۔ ہو سکتا ہے ہسپانوی زبان سے میرا عشق ان تاریخی اور وجدانی عوامل کی بنا پر ہو جو میرے تحت الشعور میں پوشیدہ ہوں۔ تاہم اس سے حقیقت نہیں بدل جاتی کیوں کہ عاشق سے یہ مطالبہ نہیں کیا جاتا کہ وہ عشق کی وجوہ کو درست ثابت کرے۔ اہم بات یہ ہے کہ مجھے ہسپانیہ اور اس کی زبان سے محبت ہے۔ میں نے اس زبان کے بڑے بڑے شعرا مثلاً مچاڈو، خیمینز ،البرتی، بیکر اور لورکا کی نظموں سے خود کو مالامال کیا ہے۔ اور ہسپانوی شعرا کے نظمیں سنانے کے اس انداز سے بھی لطف اُٹھایا ہے جس کے عقب میں گٹار کی مدھر تانیں اور اشجار ِنارنجی اور یاسمین کی خوشبوؤں میں بسی فضا کی سنگت ہوتی تھی۔ ہسپانوی زبان ،سورج، سمندر اور انگور اور زیتون کے کھیتوں کے سامنے بے حجاب موجود ہے۔ اس میں زور و حرارت ہے، عنفوان و حرکت ہے، صوت و رنگ کی سبک گامی ہے۔ یہ سب باتیں اسے اس ہسپانوی رقاصہ کی مانند بنا دیتی ہیں جس کے قدموں کی ضربوں سے اسٹیج جَل اُٹھتا ہے۔ جو شخص بھی کسی ہسپانوی عورت کو کلام کرتے، گاتے یا اپنے محبوب سے باتیں کرتے سنے گا وہ بہ سہولت اس کے ہونٹوں سے نکلتی ہندی مسالوں کی خوشبو سونگھ لے گا۔ جس نے کبھی ہسپانیہ میں بل فائٹنگ (مصارعۃ الثيران) دیکھی ہو، اور یہ بھی کہ کس طرح بیل سے لڑنے والا اس سے باتیں کر رہا ہوتا ہے ..... شاندار انداز سے حرکت کرتے، سر اوپر اٹھائے، پاسو ڈوبل موسیقی کے آہنگ پر اور شائقین کے نعروں اور جوش و خروش کے درمیان طاؤس کی دم کی مانند ریشمی رومال لہراتے ، اور کھلاڑیوں کے قدموں پر نچھاور ہوتے سرخ گلاب ..... وہ یہ بات جان لے گا کہ ہسپانوی زبان نے اپنی حرارت، شہزوری اور شدّت کہاں سے اخذ کی ہے۔ ہسپانوی زبان میں غیر جانبداری نہیں ہے۔ یہ بیک وقت عشق اور انقلاب کی زبان ہے، آب اور آتش کی زبان ۔رافیل البرتی اور گارشیا لورکا کی شاعری اور پکاسو کی پینٹنگ گورنیکا (11) اس حقیقت کی شہادت کے سوا کچھ نہیں کہ ہسپانوی فن میں آب و آتش ساتھ ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔

    حواشی:

    (1) الفریر : Frere کی تعریب۔

    (2)     یہ اشعار عروہ بن اذینہ کے ہیں۔

    (3) امین نخلہ :لبنانی شاعر و ادیب (1976-1901)۔

    (4) بشارت الخورى: اخطل صفیر کے نام سے معروف لبنانی شاعر (1968-1890)۔

    (5) الیاس ابو شبکہ: لبنان کا شاعر (1947-1903)۔

    (6) صلاح لبکی: لبنانی شاعر جو برازیل میں پیدا ہوا اور پھر لبنان میں زندگی گزاری (1955-1906)۔

    (7) سعيد عقل: لبنان کا معاصر رومانی شاعر۔

    (8) يوسف غصوب: لبنانی شاعر۔

    (9) میشال طراد: لبنان کا معاصر شاعر۔

    (10) الياس خليل زخريا:  لبنان کا معاصر شاعر ۔

    (11) گورنیکا: پکاسو کا شاہکار جو ہسپانیہ کی خانہ جنگی کے زیر اثر وجود میں لایا گیا۔