نزار قبانی

نزار قبانی

محبت

    محبت

    نزار قبانی

    میرا تعلق عشق پیشہ خاندان سے ہے۔ جس طرح سیب میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے اسی طرح ہمار ے گھرانے میں بچوں کے ساتھ محبت جنم لیتی ہے۔ عمر کے گیارھویں سال میں ہم لوگ عشاق کا روپ دھار لیتے ہیں ؛ بارھویں سال میں قدرے ملول ہونے لگتے ہیں، تیرھویں سال میں تجدید عشق کرتے ہیں اور چودھویں سال میں تجدید ملال۔ پندرہ سال کی عمر میں ہمارے خاندان کا بچہ شیخ بن جاتا ہے اور معاملاتِ عشق میں اپنی راہ پکڑ لیتا ہے۔

    میرے دادا ایسے ہی تھے اور میرے والد بھی۔ میرے بھائی جب بھی چشمِ ناز دیکھتے تو بڑی سہولت سے دل دے بیٹھتے، لیکن آسانی سے اس جھیل سے باہر بھی نکل آتے۔ خاندان کے سارے افراد محبت کے دل دادہ ہیں یہاں تک کہ ذبیحانِ محبت ہیں۔

    ہمارے خاندان کی تاریخ میں شہادت کا ایک شعلہ فشاں واقعہ پیش آیا، اس کا سبب بھی وہی تھا یعنی عشق۔ شہید ہونے والی میری بڑی بہن وصال تھی۔ اس نے ایسے سادہ اور شاعرانہ انداز سے خود کو ختم کر لیا تھا جس کی کوئی نظیر نہیں ۔ وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے محبوب سے شادی نہ کر سکی تھی۔ اس کا چہرہ، جس وقت کہ وہ موت کے منہ میں جا رہی تھی، آج بھی میرے وجود میں کندہ ہے۔ مجھے آج بھی دمِ مرگ اس کا فرشتہ صفت چہرہ، اس کے نورانی نقوش اور حسن آگیں مسکراہٹ یاد ہے۔ اپنی موت کے وقت وہ رابعہ عدویہ سے زیادہ خوبصورت اور مصری قلوپطرہ سے زیادہ دلکش تھی۔

    اس وقت میری عمر پندرہ برس تھی جب میں اس کے جنازے کے جلوس میں چل رہاتھا؛ میرے پہلو میں محبت بھی گامزن تھی اور میرے بازوؤں سے لپٹ لپٹ کر آہ و بکا کر رہی تھی۔ جب لوگوں نے میری بہن کو مٹی میں دبا دیا اور ہم اگلے روز اس کی زیارت کو آئے تو ہم ن ےدیکھا کہ قبر موجود نہیں ہے، ہاں اس مقام پر ایک گلاب کا پودا نمودار ہو گیا ہے۔

    میری بہن کا راہِ محبت میں جان دینا کیا ان نفسیاتی عوامل میں سے ہے جس نے مجھے پوری قوت کے ساتھ محبت کی شاعری پر ابھارا، اور اس بات پر کہ میں محبت کو حسین ترین الفاظ میں نذرانے پیش کروں؟ کیا محب سے متعلق میری نگارش وہ صلہ ہے جس سے میری بہن کو محروم کر دیا گیا تھا یا اس سماج سے انتقام جو محبت کو ٹھکرا دیتا ہے اور کلہاڑوں اور بندوقوں سے اسے دربدر کر دیتا ہے؟ میں اس نفسیاتی عوامل کا اقرار یا انکار نہیں کرتا، لیکن اس بات کا ضرور اعتراف کروں گا کہ میری عاشق بہن کی ہلاکت نے میری اندر کوئی شے توڑ ڈالی اور میرے بچپن کو سطح آب پر موجود ایک سے زائد دائروں اور ایک سے زائد سوالیہ نشانوں میں چھوڑ دیا۔

    میں کہتا ہو، میرا تعلق ایک ایسے خادندان سے ہے جو ہمہ وقت محبت پر آمادہ ہے؛ ایسا خاندان جو محبت میں جا پڑنے کے لیے شدید ترین حساسیت رکھتا ہے۔ بعض لوگوں میں حساسیت کا منبع رنگوں، خوشبوؤں، غبار یا موسموں کی تبدیلی میں ہوتا ہے، لیکن ہمارے خاندان میں اس کا منبع قلب ہے۔ مظاہرِ حسن و جمال کے سامنے ہمارا ہر فرد سدید حساسیت کا شکار ہو جاتا ہے۔

    جب کوئی بلند قامت خوش اندام میرے والد کے پاس سے گزرتی تو وہ کسی چڑیا کی طرح پھڑپھڑاتے اور شیشے کی مانند ٹوٹ جاتے۔ خط کا پڑھنا، بچے کا رونا یا عورت کا ہنسنا انہیں یکسر توڑ پھوڑ دیتا۔ وہ حالات کی سنگینی کے سامنے سخت گیر ہو جاتے لیکن حسن تاباں کے آگے راکھ کا ڈھیر بن جاتے۔ ان کی نیلگوں آنکھیں نہر سویز کی مانند شفاف تھیں، ان کی قامت رومی جنگجو کے نیزے کی طرح تھی۔ اور دل بلور کے ظرف کی مانند جس میں ساری دنیا سما جائے۔ وہ قابل فخر دولت کے مالک تھے، یعنی انسانوں سے محب، وہ اس سے زیادہ کے طالب بھی نہ ھے۔ جب ان کی وفات ہوئی تو سارا دمشق انہیں اپنے بازوؤں پر اٹھانے اور اس محبت کا صلہ دینے نکل پڑا جو وہ لوگوں کے ساتھ رکھتے تھے۔

    جہاں تک میری والدہ کا تعلق ہے وہ ایک چشمۂ عاطفت تھیں جس کی عطا بے حساب تھی۔ وہ مجھے اپنا چہیتا بیٹا قرار دیتیں۔ میرے ہر دل عزیز بھائیوں میں ان کے نزدیک میرا خاص مقام تھا۔ میری طفلانہ فرمائشیں وہ بلاشکوہ و شکایت پوری کر دیا کرتیں۔میں بڑا ہو گیا لیکن ان کی نگاہ میں ہمیشہ کمزور و ناتواں ہی رہا۔ سات سال کی عمر تک وہ مجھے دودھ پلاتی رہیں اور تیرہ سال تک اپنے ہاتھوں سے کھلاتی رہیں ۔اس کے بعد میں نے دنیا کے تمام براعظموں کا سفر کیا، لیکن انہیں ہمیشہ میرے کھانے پینے اور میرے بستر کی صفائی ستھرائی کی فکر دامن گیر رہی۔ دمشق میں جب گھر کے افراد دسترخوان پر بیٹھتے تو وہ مجھے یاد کرتے ہوئے کہتیں، ’’پتا نہیں دیارِ غیر میں اس کے کھانے پینے کا کوئی خیال بھی رکھ رہا ہو گا یا نہیں!‘‘ فطری طور پر میں وہی بچہ ہوں۔ طویل عرصے تک وہ دمشقی کھانوں کے پارسل ان سفارت خانوں کو بھیجتی رہیں جہاں میں کام کرتا تھا، کیونکہ انہیں اس بات کا یقین نہیں آتا تھا کہ شہر دمشق سے باہر بھی ایسی چیزیں موجود ہوت ہیں جنہیں انسان کھا سکے۔

    فکری سطح پر میرے اور میری والدہ کے درمیان کوئی نقطہ بھی مشترک نہ تھا۔ وہ اپنی نماز، روزے اور جاے نماز میں مشغول رہتیں۔ خاص مہینوں میں مقبروں پر حاضری دیتیں، اولیا کے حضور نذرانے پیش کرتیں، عاشورے کے موقع پر پیڑے بناتیں، بدھ کے روز مریضوں کی عیادت سے پرہیز کرتیں، پیر کے روز نہانے دھونے سے اجتناب کرتیں، رات چھا جانے پر ہمیں ناخن تراشنے سے منع کرتیں، شیاطین کے خوف کی وجہ سے کھولتا ہوا پانی سنک میں نہیں بہاتی تھیں، اور حاسدوں کی نظروں سے بچانے کے لیے ہم میں سے ہر ایک کے گلے میں نیلے فیروزے کے پتھر لٹکا دیا کرتی تھیں۔

    اپنے والد کی انقلابی فکر اور والدہ کی قدامت پسندانہ سوچ کے درمیان رہتے ہوئے میری نشوونما آتش و آب والی زمین پر ہوی۔ میری والدہ آب تھیں اور والد آتش تھے۔ اپنی فطرت مناسبت کے سبب، میں اپنی والدہ کے آب پر والد کی آتش کو فائق رکھتا ہوں۔

    میرے والد کلاسیکی معنی میں مذہبی انسان نہیں تھے۔ وہ میری والدہ کے خوف سے روزے رکھتے ؛ بعض دفعہ اپنی عوامی شہرت کے خیال سے محلے کی مسجد میں جمعے کی نماز پڑھ لیتے تھے۔ ان کے نزدیک دین حسن سلوک، معاملات اور خوش خلقی کا نام تھا۔ خدا گواہ ہے کہ وہ عظیم اخلاق کے مالک تھے۔ ان کے مال و دولت میں سائل و محرو م کا حق ہمیشہ ہوتا تھا۔ زمین پر تکالیف سے دوچار لوگوں کے لیے ان کے دل میں ہمیشہ جگہ رہتی۔ ہمارے گھر میں روٹی دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دی جاتی ، آدھی دوسروں کے لیے اور آدھی ہمارے لیے۔

    والد صاحب دین کو اس کے جمالیاتی تناظر سے الگ نہیں کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ خشوع واستغراق سے عظیم قاری الشیخ محمد رفعت کو سنتے ہوئے کئی کئی گھنٹے گزار دیتے۔ والد صاحب ان کی آواز کو اللہ کے نور کی جانب کھلنے والے ایک دریچے اور ایمان کے نخلستانوں میں سے ایک نخلستان سے تعبیر کرتے۔ میں وہ دن کبھی نہیں بھلا سکتا جب انہوں نے قبیح آواز والے ایک موذن کو -- جس کی آواز، والد صاحب کی رائے میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف سازش محسوس ہوتی تھی — بارود سے نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی؛ اسے لوگ ہمارے مکان سے ملحق مسجد میں لائے تھے۔ بالآخر وہ کہیں غائب ہو گیا اور اس نے پھر کبھی مینارے پر چڑھنے کی جرأت نہیں کی۔

    والد صاحب کا انقلابی اندازِ فکر مجھے بہت پسند تھا۔ میں اسے ہر اس شخص کے لیے قابل عمل نمونہ سمجھا تھا جو مسلمات کا انکار کرتا ہے اور اپنے خاص طرزِ فکر پر غور و فکر کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ان کے ساتھ میری ، بہت زیادہ خارجی خصوصیت کے ساتھ ساتھ، نفسیاتی خصوصیات میں مشابہتیں کہیں بڑھ کر تھیں۔ جیسا کہ ہر بچہ اپنے   بچپن میں کسی شہسوارکا متلاشی ہوتا ہے، یعنی ایک ہیرو اور ایک قابل تقلید نمونے کا، اسی طرح میرے والد میرے شہسوار اور ہیرو تھے، اور ان ہی سے میں نے آگ چرانا سیکھا۔