شاعری کے سرچشمے
شاعری کے سرچشمے
نزار قبانی
شاعری نہ آسمانی آگ ہے، نہ مقدس قربانی، اور نہ غیبی معجزات میں سے کوئی معجزہ۔ شاعری کے سب ذرائع بشری ذرائع ہیں اور اسے لکھنے کا عمل بشری عمل ہے۔ اسے شعری شیاطین (1) ، شعری دیویاں ،الہام ،الہام یافتہ لوگ ،وحی، اور وحی یافتہ افراد کا کلام قرار دینا شاعری کو صفتِ ساحری، اور شعرا کو ساحروں اور اصحابِ کرامات کا وصف عطا کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
در حقیقت میں شروع ہی سے مابعد الطبیعیاتی ذرائع پر یقین نہیں رکھتا، نہ شاعری کو اس کی انسانی فطرت و مزاج سے عاری کرنے اور اسے پیغمبروں والا اُونی لباس پہنانے کے لیے پُرجوش ہوں۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ شاعری نبوت کی ہی کوئی شکل ہے تو شاعر کے سلسلے میں نبوت کا یہ مفہوم نہیں کہ وہ کسی نہ کسی صورت میں دوسری کائناتی زبان میں گفتگو کرے، یا یہ کہ وہ خفیہ آوازیں سنتا ہو جنہیں دوسرے لوگ نہ سن سکیں۔
شاعر نفسِ انسانی کا استنباط کرتا ہے؛ اس کا اوڑھنا بچھونا وجدانِ عالم ہوتا ہے، وہ جو چاہتا ہے لوگوں کے کہنے سے پہلے کہہ دیتا ہے۔ اس روشنی میں متنبی کی نبوت کی تفسیر ممکن ہے جو ہزار سال سے زندگی کے چھوٹے بڑے تمام امورمیں عربوں کا مشیر ہے۔ ہم متنبی کی طرف رجوع کرتے ہیں، اسے اللہ کے پیغمبروں میں سے کوئی پیغمبر سمجھتے ہوے نہیں جن کی برکتوں کے ہم طالب ہوتے ہیں اور جن کے معجزات ہمیں تسخیر کر لیتے ہیں، بلکہ ہم اسے ایک عظیم فن کار سمجھتے ہوئے اس کی طرف رجوع کرتے ہیں جس نے اپنی بصیرت سے کام لیا۔ پھر اس کے دو معجزانہ تصورات بھی ہیں؛ یعنی اس نے اپنے ذاتی تجربے کو کائناتی تجربے میں بدل دیا، اور عرب زمانے کی حدود سے نکل کر زمانۂ مطلق کے بیابانوں کی طرف آ گیا۔
آسمانی شاعری کا نظریہ، بادشاہوں کے اُلوہی استحقاق کی مانند، ایک ایسی بات ہے جس سے زمانہ آگے نکل چکا ہے۔ آسمان شاعری نہیں لکھتا ؛ ظاہری بات ہے کہ اسے لکھنا نہیں آتا، اور تاریخ بھی شاعری کے کسی ایسے دیوان کے بارے میں نہیں بتاتی جسے فرشتوں نے جاری کیا ہو۔ لہٰذا شاعری انسانی تگ و تاز ہے۔ ہم نے نہیں سنا کہ بید کے درخت نے کوئی نظم لکھی ہو یا بلبل نے شاعری کا دیوان شائع کیا ہو۔ انسان ہی شعر کہتا ہے، کیوں کہ اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو اپنے اندرون میں جاری سیلابی ریلوں کا گلا گھونٹ دے گا۔
انسانی جلد کی طرح نفس انسانی کے بھی مسام ہوتے ہیں جن سے وہ سانس لیتا ہے۔ شاعری نفسی مساموں کا مجموعہ ہوتی ہے جو انسان کو اپنے احساسات و افکار کے دھماکوں سے نجات دلانے اور اس کی گہرائیوں میں موجود زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے میں مدد کرتی ہے۔ جب انسان زندگی کے جسم میں اُترتا اور اس کی روزمرہ کی تفصیلات سے اُلجھتا ہے، جب اسے اپنے ساتھ ہونے والے ہر واقعے کو ضبط تحریر میں لانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، تو انسان اپنی ڈائری لکھنے کے لیے بےتاب ہو جاتا ہے۔ یادداشتیں لکھنا حفظ بقا کی جبلتوں میں سے ایک جبلّت کے سوا، یعنی اپنی عمر کو طول دینے کی کوشش کے سوا... اگرچہ کاغذ ہی پہ کیوں نہ ہو... کچھ نہیں۔
انسان کے لیے دو لذتیں ہیں: ایک تجربے کو جینے کی لذت، اور ایک اس تجربے کے بارے میں لکھنے اور اسے کوئی صورت دینے کی لذت۔ اس لیے تجربہ لکھنے کی شرائط میں بنیادی شرط ہے۔ جو لکھاری مصیبت نہیں جھیلتا وہ اس بات کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ اپنے مصائب دوسروں کو منتقل کر سکے۔ ایسے لکھاری کی مثال اُس عورت جیسی ہے جو حمل اور دردِ زہ کے مراحل سے گزرے بغیر ماں بنناچاہتی ہو۔
مجھے اس وقت حیرت انگیز اذیت پکڑ لیتی ہے جب کوئی سوال کرنے والا مجھ سے پوچھتا ہے: کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ محبت کے بارے میں آپ نے جو کچھ لکھا ہے وہ حقیقی تجربوں کا نتیجہ ہے، یا پھر وہ تک بندی اور پراگندہ خواب ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ تنہا خواب بانجھ ہوتا ہے، اور خواب دیکھنے والے بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ سچ ہے کہ شعرِ عذری (2) ( کنواری شاعری) نے عربی شاعری کے دیوان کے ایک حصے پر قبضہ جمائے رکھا ہے۔ مگر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ عرب مزاج کے اعتبار سے اس طرح کی شاعری ایک اجنبی جسم ہے جو صحرائی اور نیم صحرائی ماحول کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ صحرائی ماحول تو آفتاب کی شعاعوں تلے رہنے والی عورت سے جُڑا ہوا ہے اور اپنے مخصوص زاویوں سے اشیا کو دیکھتا ہے۔
اگر عربی شاعری وہم کی پناہ میں گئی تو ایسا مذہبی ،اخلاقی اور اُن قبائلی پابندیوں کی وجہ سے ہوا جو شاعر اور اس کے محبوب کے وصال اور اس کا نام تک پکارنے کے درمیان حائل تھیں۔ یہیں سے جمیل بُثینہ (3) اور قیس ابن الملوح (4) کی شاعری کا اعتبار ممکن ہو جاتا ہے، یعنی ایسی شاعری کا جو ہنگامی یا استثنائی حالت کی نمائندگی کرتی ہے، جسے اُن سماجی حالات نے لکھوایا جو شاعر کے اختیار سے باہر تھے۔ دوسرے الفاظ میں، اگر لیلیٰ اور بُثینہ زیادہ آزاد اور رواداری سے کام لینے والے سماجی حالات میں ہوتیں، تو ان دونوں شاعروں کی جانب سے لکھی گئی عشقیہ نظموں کے انداز بدل جاتے، اور ان کے بنیادی موقف میں بھی تبدیلی واقع ہو جاتی۔
میں اس بات پر یقین کرنے کی طرف زیادہ مائل ہوں کہ عمر بن ابی ربیعہ کی شاعری اپنے ہم عصر شاعروں کے مقابلے میں عرب حقیقت سے زیادہ قریب ہے۔ اسلام کے روشن ایام میں موجود ہونے کے باوجود، وہ اپنی شاعرانہ طبیعت سے ہم آہنگ اور اپنے وجودی موقف سے مخلص رہا۔
اگر ہم عشق کے بارے میں لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں لازماً عشق کی موت مرنا ہو گا۔ اگر ہم عورتوں کے بارے میں لکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں کم از کم ایک عورت سے ضرور واقفیت حاصل کرنی ہو گی۔ یہ سچ ہے کہ ایسے لکھنے والے بھی ہیں جو تماش بینوں کی طرح محبت کا صرف نظارہ کرتے ہیں اور پھر اس کے بارے میں ہزاروں صفحات لکھ ڈالتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ایسے شعرا بھی ہیں جو اپنے خوابوں کی تجربہ گاہوں میں عورتوں سے متعلق ذہنی نقشے بنا لیتے ہیں؛ ایسے لوگوں کا تجربہ لیبارٹری والا ٹھنڈا تجربہ ہی رہتا ہے، وہ زندگی کی رفتار اور اس کی حرارت سے محروم رہتے ہیں۔ بلاشبہ قاری کو کاغذی عورت اور ایک ایسی عورت میں فرق کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی جو تلوار کی طرح ہمیں ہزار ٹکڑوں میں تقسیم کرتی ہے اور ہماری زندگیوں کو قوسِ قزح میں بدل دیتی ہے۔
میں اپنی ہر تحریر میں کہانی کا حصہ رہا ہوں، تماشبینوں کی نشستوں پر بیٹھا صرف نظارہ کرنے والا نہیں۔ جب تک آگ سے مجھے سوزش کا احساس نہ ہو، میں آگ کے وجود پر یقین نہیں کرتا۔ جب تک سمندر مجھے غرق ہونے کا احساس نہ دلائے، میں اس کا احترام نہیں کرتا۔ اسی طرح میں کہتا ہوں کہ میرے لیے ناممکن ہے کہ میں اپنی محبوبہ کی دراز زلفوں کے بارے میں لکھوں جب کہ وہ میرے ہاتھوں میں چنبیلی کی ٹہنیوں کی طرح بھی نہ ٹوٹی ہوں۔ خام مواد کے بغیر میرے لیے کام کرنا ممکن نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے انجینئر پتھر کے بغیر، جُلاہا دھاگے کے اور باغبان بیجوں اور پودوں کے بغیر کام نہیں کر سکتا۔
ہر تخلیق کے لیے، چاہے وہ دستی ہو یا ذہنی، خام مال بنیادی چیز ہے، بہ صورتِ دیگر لکھاری کو شعبدہ باز بننا پڑے گا جو عدم سے چیزوں کو وجود دیتا ہے۔ تاہم لکھاریوں کا ایسا گروہ بھی ہے جو ثقافتی تجربے کو زندگی کے تجربے سے بدل دیتا ہے۔ یہ لوگ سفر کیے بغیر سفروں سے متعلق گفتگو کرتے ہیں، عشق کیے بغیر عشق کی تصویرکشی کرتے ہیں، اور جنسی تفصیلات بھی بیان کر دیتے ہیں حالاں کہ ان حضرات نے عورت کا ناخن تک چھوا نہیں ہوتا۔ ہمارے کتنے ہی لکھاری ایسے ہیں جو اپنے تجربوں اور جسموں کے بجاے دوسروں کے تجربوں اور جسموں پر زندگی گزارتے ہیں۔ یہ لوگ مارکیوز (5) کے افکار ، کافکا کی مہملیات، بیکٹ کی نامعقولیت ،مِلر کی سادیت، انگلش لیڈی چیٹرلے کی شہوت اور فرانس کی مادام بوواری کی جاه طلبی مستعار لیتے ہیں۔ یوں مفت اور من مانے طریقے پر مستعار لیے جانے والے ثقافتی رویے ہمارے ادبی اور فنّی کام کو اس بنیادی شرط سے محروم کر دیتے ہیں جو کسی بھی تخلیقی عمل کے لیے ضروری ہے۔
یاد رکھیے، بنیادی شرط سچائی ہے۔ لیکن جب سچائی غائب ہو جائے تو جزیرۂ برطانیہ میں جنم لینے والے شاعر کی آواز اور بصرہ یا مصر کے کسی گاؤں میں پیدا ہونے والے شاعر کی آواز خلط ملط ہو جاتی ہے۔ ساں ژاں پرس عربی شکل، منہ اور زبان رکھنے والا شہری بن جاتا ہے اور بیروت کے کسی محلے میں رہنے لگتا ہے۔
جدید عربی شاعری کو سراہنے کے ساتھ میں یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ متعدّد قومیتوں اور شخصی دوہرے پن کے ہوتے ہوئے بھی، یہ شاعری ایک حقیقت کے طور پر موجود رہی ہے؛ چناں چہ یہ بات عربی زبان میں لکھ دی گئی ہے کہ اس پر گردوغبار نہیں جم سکے گا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس کی عمومی آب و ہوا دمشق، کویت یا عرب امارات کے پُرفضا ساحلوں کی آب و ہوا سے مشابہت نہ رکھ سکے۔ اس بات سے میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں عربی شاعری کو عالمی فکر سے الگ کرنا چاہتا ہوں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ یہ شاعری اپنی عرب پہچان کا تحفظ کرے اور ایسا تجربہ بن جائے کہ جب اس تجربے کا اظہار کرے تو اس وقت یہ واقعتاً عرب انسان اور اس کے مصائب سے نکلنے والا خالص عرب تجربہ ہی ہو۔
ادب اور فن میں قومی رنگ ایک حسین شے ہے۔ اسی لیے افریقہ سے نکلنے والی جاز موسیقی، سیاه پس منظر میں حرکت کرتے چینی نقش و نگار، فادو موسیقی جو پرتگالی سمندر میں لاپتا ہو جانے والوں پر عورتوں کا غم و اندوہ بیان کرتی ہے، ٹیگور کی شاعری جو روحِ ہند ہے، اور خیام کی رباعیات جن سے تبریز و شیراز کی خوشبوئیں آتی ہیں، ان سب کے سامنے ہم پُرجوش ہو جاتے ہیں۔
میرا یہ کہنا کسی شیخی یا غرور کی بنا پر نہیں ہے کہ میرے تجربات ،میرے ہیرو، میرا شعری پس منظر سب سوفیصد عرب ہے۔ میرے صفحات پر متحرک عورتیں سب عرب ہیں۔ ان کے خدشات، پریشانیاں، غم و اندوه، چیخ پکار، سب کی سب عرب نسائیت ہی ہے۔ کاش وہ لوگ جو مجھ پر عورتوں کو کنیز بنانے، ان کی تذلیل کرنے اور انہیں کھلونوں کی طرح استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہیں، یہ بات جان سکیں کہ میں نے اس عرب حقیقت ہی کا اظہار کیا ہے جو اس نے عورت کے ساتھ اپنے برتاؤ میں روا رکھی ہے۔ اسے میں نے اپنے پاس سے اختراع نہیں کیا ہے۔
اگر میری شاعری میں مردوں کے ایسے نمونے ہیں جو عورت کو عمارت، قالین یا آٹے کی بوری کی طرح اپنی ملکیت بنا لیتے ہیں، اور عورتوں کے ایسے نمونے جو اس طرح کی ذلت آمیز سودے بازی میں داخل ہو جاتی ہیں، تو اس کی وجہ یہی ہے کہ عرب کے اکثر شہروں میں آپ کا واسطہ ایسے ہی نمونوں سے پڑے گا۔ مثلاً میری نظم ’’الحب والبترول‘‘ (محبت اور پٹرول )اسی جذباتی جاگیرداری اور غیراخلاقی تعلق کی ایک صورت کا بیان ہے، وہ تعلق جو ایسے مرد اور عورت کے درمیان قائم ہوتا ہے جس میں مرد اپنی چیک بک کی وجہ سے مالک بنتا ہے اور عورت اپنے سنہری زلفوں کے خوشوں اور اپنے پستانوں کی نوخیزی کی وجہ سے مملوک بن جاتی ہے۔ میری نظم ’’حبلى‘‘ (حاملہ) سفید اور خاکی رنگوں کی اذیت ناک صورت ہے، وہ حقیقی ظلم جو کم تجربہ کار بدقسمت عورت کے جسم پر کیا جاتا ہے۔
میری نظمیں ’’أوعيۃ الصديد‘‘(پیپ کے ظروف)، ’’إلى أجيرة ‘‘(کرائے کی عورت کی طرف)، ’’ رسالۃ إلى رجل ما‘‘ ( مردِ ناشناس کو پیغام) ’’صوت من الحريم‘‘ ( حرم خانے کی آواز)، ’’رسالۃ من سيدة حاقدة‘‘ ( کینہ پرور خاتون کی جانب سے پیغام)، اور ’’البغي‘‘ (قحبہ گر) - کیا یہ سب اجاره داری، انانیت اور جاگیرداری کے قانون کی پردہ دری اور اس پر حملہ نہیں، وہ قانون جو عرب معاشرے پر رومانوی اور جنسی تعلقات کے سلسلے میں حکمرانی کر رہا ہے؟
بلاشبہ میں مدينۃ فاضلۃ (فضیلت والا شہر/ یوٹوپیا) کے بارے میں بھی شعر لکھ سکتا تھا، جس میں مرد عورتوں سے فرشتوں کی طرح محبت کرتے اور پرندوں کی طرح ان کے ساتھ معاشقے لڑاتے ہیں۔ میں چاہتا تو خوف و دہشت اور غیرت کے نام پر کیے جانے والے جرائم سے چشم پوشی کر سکتا تھا جنہیں عربی اخبارات اپنے صفحۂ اول پر نمایاں کر کے شائع کرتے ہیں، اور اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ جانے والی عورت کا سر اُڑانے کو میں سیب کے گرنے کی طرح ایک عام سا واقعہ سمجھ سکتا تھا۔ لیکن میں وہ انسان نہیں جو فریب کاری میں ماہر ہو۔ میں اپنے مسائل کو دیکھنے کے لیے رنگین شیشوں کا استعمال نہیں کرتا، نہ اپنے ملک میں محبت پر مقدمات چلانے والى روايتى عدالتوں میں جھوٹا گواہ بننا مجھے قبول ہے۔ چوں کہ میں اُن تمام گناہوں کا سب سے بڑا گواہ ہوں جن کا مرد علانیہ ارتکاب کرتے ہیں اور جن کی سزا عورت کا جسم بھگتتا ہے، لوگ مجھے ’شاعرِ رسوائی‘ کا نام دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح موسوم کیے جانے سے مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوتی، نہ مجھے اس بات کی فکر ہے کہ میں اس نام کو خود سے الگ کروں، اس لیے کہ ہر معجزانہ اور غیر معمولی عمل رسوائی ہوا کرتا ہے۔ ہسپانیہ میں عورت کے بالوں میں سُرخ گلاب اور اس کی کرخت آواز رسوائی ہے، اچھی نظم رسوائی ہے، کامیابی سے ہمکنار پینٹنگ رسوائی ہے، گرماتی ہوئی خوشبو رسوائی ہے، اور اپنی محبوبہ کے ہاتھوں پر میرے پُرسکون ہاتھ حسین ترین رسوائی ہے۔ اور پھر ہم دور کیوں جائیں، کیا چاند آسمان کی سب سے بڑی رسوائی نہیں ؟ صرف گھٹیا نظمیں ہی ایسی ہوتی ہیں کہ اس سے پہلے کہ کوئی ان کے شرف کو پہنچے، وہ بڑھاپے اور موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔
آخر نظم کا شرف ہے کیا؟
ہم نظم کے شرف کو عام شرف کا ہی ایک حصہ تصور کر لیتے ہیں اور اس کو اسی شرف کے مساوی سمجھنے لگتے ہیں۔ لیکن یہ ایک سادہ تصور ہے؛ یہ تصورشاعری کو متونِ فقہ کے ایک متن اور شاعر کو کسی دیہی کلیسا کے خدام میں سے ایک خادم میں بدل دیتا ہے۔ شرفِ عام اِتّباعی نقطۂ نظر ہے جس كا تعین مکانی ،تاریخی ،سماجی اور مذہبی حالات کرتے ہیں، اور ثبات اس کی نمایاں صفت ہے، جب کہ تخلیقی نقطۂ نظر تاریخ پر تنقید کرتا ہے، اس کی تصحیح کرتا ہے، اور اس کا راستہ تبدیل کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں شرفِ عام اور فنّی شرف جن راستوں پر چلتے ہیں وہ متوازی نہیں بلکہ ایک دوسرے کے قاطع ہیں۔
عربی ادب کے شعراے جلیل وہی لوگ ہیں جو شرفِ عام سے زیادہ فنی شرف کے وفادار رہے، جیسے بڑے اور منفرد شعرا ... ابونواس، ابوتمام اور متنبى ... جو شرفِ عام کے تصور کے ساتھ تناقض اور جدائی کی حالت میں رہے، اس لیے کہ شرفِ عام انقلابی شاعری کے انقلابی مزاج کے برعکس ہے۔
مغرب میں روایتی برطانوی سوچ اور عہدِ وکٹوریہ کے وارثین بھی اس قابل نہ ہو سکے کہ آسکر وائلڈ اور ڈی ایچ لارنس پر غلبہ حاصل کر سکیں، کیوں کہ ان دونوں کا فنّی شرف انہیں دنیا کے بڑے ادیبوں میں شامل کروانے کے لیے کافی تھا۔ اور لیڈی چیٹرلے بھی اس قابل ہو گئی تھی کہ اپنی برطانوی شہریت اور شہری حقوق مکمل طور پر تیاگ دے۔ اس لیے ناگزیر ہے کہ ہر تخلیق کار ایک مخالف آواز بن کر اُبهرے۔ اُس لكھاری کی کوئی حیثیت و وقعت نہیں جو حاشیہ برداروں کی صف میں بیٹھے، اکثریت کی آواز سے آواز ملائے، اور کسی کٹھ پتلی کی طرح ہاتھ اٹھا کر ابوسفیان کے وضع کردہ قوانین کی تائید کرے۔
پسماندہ معاشروں میں شرفِ عام اور فنّی شرف کے مابین خونریز معرکہ گرم ہوتا ہے اور شاعر کے سامنے صرف دو اختیارات باقی بچتے ہیں: ایک یہ کہ وہ سماجی چراگاہ میں پالتو جانور بن جائے، کھائے پیے اور نسل بڑھائے، یا پھر یہ کہ اس چراگاہی نظام کی مخالفت کرے، نتیجتاً اپنے شرف سے ہاتھ دھو بیٹھے لیکن اپنی شاعری کو فتحیاب کرا دے۔ حقیقت یہ ہے، مجھے اس چراگاہ سے نکلنے پر کوئی ندامت نہیں کیوں کہ اس کے دن، اس کی راتیں، اس کے مردوں کی باتیں اور ان کی فضیحتیں سب ایک جیسی ہیں۔ میں یہاں سے اپنی مرضی سے نکلا ہوں کیوں کہ میں جانتا تھا کہ یہاں رہنا اپنے اور اپنی نظموں کے خون میں کولیسٹرول بڑھانے کےمترادف ہے۔
تم مشقِ سخن کرتے ہو لہٰذا تم ملزم ہو۔
تم عالم عرب میں مشقِ سخن کرتے ہو اس لیے تم پر لگنے والا الزام خطرناک ترین اور تمہاری سزا دُگنی ہے۔
تم مقلدوں کے ریوڑ ،ان کے افکار اور اعتقادات سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہو؛ تم لوبیے کی پھلیوں سے، جو حجم اور شکل میں ایک جیسی ہوتی ہیں، منفرد نظر آنا چاہتے ہو، لہٰذا ملزم ہو۔
تم اپنے الفاظ کے ذریعے زمانے کی خصوصیات، اپنے ہم وطنوں کی زندگی کا آہنگ اور نوعِ انسانی کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہو، لہٰذا تم ملزم ہو۔
تم اپنے شہر کے راستوں کی سمتوں، گلیوں، میدانوں اور لوگوں کے نام بدلنے کی کوشش کر رہے ہو، لہٰذا تم ملزم ہو۔
تم ان فرمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوشش کر رہے ہو جن پر تمہارے اجداد کی مہریں ثبت ہیں، تم اپنی ذاتی زندگی کے امور، اپنے جذبات و خیالات کے نقشے، اپنے کلام اور اپنے اعتقادات پر مردہ بزرگوں کی مداخلت پر اعتراض کرنے کی کوشش کر رہے ہو، تب تو تمہیں رسوائی کے گھوڑے کی سواری کرنی ہی ہو گی۔ رسوائی کا گھوڑا بے آرام، تھکا مارنے والا اور بے لگام ہوتا ہے، لیکن یہی گھوڑا ہمیشہ سب سے خوبصورت بھی ہوتا ہے۔
اب میں واپس شاعری کے ذرائع کی طرف آتا ہوں۔ اپنی شاعری کے ذرائع کی طرف۔
پہلی بات یہ کہ میں دوسروں کے یا اپنے اشعار یاد نہیں رکھ سکتا۔ مجھے اپنے اشعار یاد رکھنے اور سنانے میں بڑی مشکل پیش آتی ہے۔ دوست احباب کی محفلوں میں جب مجھ سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ میں اپنے شعر سناؤں تو مجھے گناہ کا احساس ہونے لگتا ہے۔ میرے دوست سمجھتے ہیں کہ میں ان کے سامنے بڑا بننے کی کوشش کر رہا ہوں، وہ میری معذرت کو بادلِ ناخواستہ قبول کرتے ہیں۔ میں بھول جانے کا ڈھونگ نہیں رچاتا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں اس بات سے بھی عاجز ہوں کہ پانچ منٹ پہلے لکھی ہوئی اپنی نظم یاد رکھ سکوں۔ مجھے ان شعرا پر رشک آتا ہے جو اپنے حافظے کا بس ایک بٹن دباتے ہیں اور ریکارڈ شدہ ٹیپ کی طرح گانا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے میں شعری محفلوں میں اپنے تمام اوراق ساتھ لے جاتا ہوں جو مجھے وہاں سنانے ہوتے ہیں، راستے بھر ایک ایک ورق ترتیب دیتا جاتا ہوں کہ کہیں مشکل میں نہ پھنس جاؤں۔
وہ سوال جو میرے ساتھ چمٹا رہتا ہے اور مجھے بہت اذیت دیتا ہے، یہ ہے:
کیا شاعر کا اپنے ہی اشعار بھول جانا کوئی خوبی یا خامی ہے؟ اور پھر کیا شعری حافظہ شعری کھیل میں بنیادی شرط ہے؟ میں سمجھتا ہوں، نظم لکھنا ایک بات ہے، اسے پڑھنا اور یاد رکھنا دوسری بات۔ لکھنا بجلی کی کوند ہے جس کی عمر نہیں ہوتی؛ یاد رکھنا اکتسابی ملکہ ہے، اور کھیلوں کی طرح ایک کھیل ہے جو مشق سے کمال حاصل کرتا ہے۔ حافظہ، اپنی تمام اقسام میں ،ماضی سے تعلق کی ایک قسم اور اس کی طرف پلٹنا ہے۔ ہم اپنے ان پیاروں کو یاد کرتے ہیں جو چلے گئے۔ ہم اپنے ان لوگوں کو بھی یاد کرتے ہیں جو موت سے ہم کنار ہو گئے۔ اسی پر قیاس کر لیجیے کہ ایسا کوئی نہیں جو مستقبل کو یاد کرتا ہو۔
یاد رکھنا وابستگی ہے اور بھول جانا آزادی اور رہائی۔ ہم جو نظم بھی لکھتے ہیں وہ شاہراہ کا ایک اشارہ ہے جس سے گزر کر ہم نئے اشاروں کی تلاش میں آگے چلے آئے ہیں۔ قدیم اشاروں پر ٹھہر جانا، میرے خیال میں، کھنڈروں پر رک جانے کے مترادف ہے، اس سے سفر میں رکاوٹ آتی ہے، آرزؤوں کا گلا گھٹتا ہے، اور شاعر کی آنکھوں کا رُخ سر کے پیچھے کی طرف ہو جاتا ہے۔
یہاں میں آپ کے سامنے اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے اپنی پرانی نظموں کے ساتھ کم ہی وفا کی ہے۔ میں ان سے ملاقات کے لیے نہیں جاتا، ان سے مراسلت نہیں کرتا اور مجبوری کے سوا ان کا حال احوال بھی نہیں پوچھتا، کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ شاعر کا اپنی پرانی نظموں سے باربار ملنا ان نظموں کو مقبرے کی صورت میں تبدیل کر دیتا ہے۔ پتا نہیں کیوں ،جب کبھی میں اپنی کوئی پرانی نظم پڑھتا ہوں تو مجھ پر یہ احساس طاری ہو جاتا ہے کہ جیسے میں کوئی استعمال شده قمیص پہن رہا ہوں یا کسی غیر آرام دہ ہوٹل میں قیام پذیر ہوں۔ شاعری سنانا گزری حالت کو واپس بلانا اور اُس نفسی کیفیت کی طرف رجوع کرنا ہے جس کا واپس آنا بہت مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو وقت میرے ہاتھوں سے نکل گیا اب اسے واپس بلانا میرے لیے دشوار ہے۔ بلاشبہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مجھے اپنی پرانی چیزیں ناپسند ہیں اور میں ان سے اعلان برأت کر رہا ہوں۔ مطلب صرف اتنا کہ میں سمجھتا ہے ہوں، ان چیزوں نے اپنے حصے کا کردار ادا کر دیا اور بات ختم ہو گئی۔
دوسری بات جو میں اپنے شعری ذرائع کے بارے میں نوٹ کروانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ فطرت بطور مستقل موضوع کے میری شاعری کا حصّہ نہیں ہے۔ زیادہ وضاحت سے اگر کہوں تو میں ابن الرومى، البحترى اور ابن المعتز کی طرح عرب طبیب نہیں بن سکتا، جنہوں نے بڑے کمال اور غیر جانبداری سے مناظرِ فطرت کو ہمارے سامنے روغنی چمک اور تہذیبی شان کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔
فطرت نے ،ایک مستقل جہان کے طور پر، میری شاعری میں اہم کردار ادا نہیں کیا۔ انسان اس سے زیادہ اہم اور اپنی موجودگی کے لحاظ سے زیادہ طاقتور ہے۔ یہ درست ہے کہ میں نے ستاروں، بادلوں ،چشموں، سمندروں اور جنگلوں کے بارے میں شعر کہے ہیں، لیکن میں نے ان کا تعلق ہمیشہ انسان سے جوڑے رکھا ہے؛ واضح تر الفاظ میں ،میں نے ان حسین و جمیل اشیا کو اس عورت کے تصرف اور خدمت میں ہی رکھا ہے جس سے میں نے محبت کی۔
میں نے چاند کے بارے میں لکھا، اس لیے نہیں کہ وہ چاند ہے بلکہ اس وجہ سے کہ وہ فضائے عشق میں ایک آرائشی قطعے کی حیثیت رکھتا ہے۔ سفید گلِ ياسمين میرے لیے اس لیے اہم ہے کہ وہ میری محبوبہ کی زلفوں میں بسیرا کرتا ہے۔ اکتوبر کی بارش اور ابر میری توجہ اس لیے حاصل کر سکے کیوں کہ میری ملاقاتوں کا خاکستری پس منظر ان سے تشکیل پاتا ہے۔
جہاں تک شراب کا تخلیقی ذرائع میں سے بطور ایک مزعوم ذریعہ ہونے کا معاملہ ہے، تو میں نے اسے ہیجان انگیز اور اوج و کمال کی طرف لے جانے والا عامل نہیں بلکہ رکاوٹ بننے والا عامل ہی پایا ہے۔ مصنوعی محرکات کے تحت لکھنا مہم جوئی تو ہو سکتی ہے مگر اس میں تسلی بخش نتائج کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ مجھے یاد نہیں پڑتا میں نے اپنے شعری عمل میں کسی بھی وقت قلم اور جام کو اکٹھا کیا ہو۔ لکھنے کا عمل لکھاری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جوابدہی، بصیرت اور اپنے عمل کی معرفت کے بلند مقام پر فائز ہو ، وگرنہ نظم ایک ایسا عمل بن کر رہ جائے گی جس پر اتفاقات اور قسمت کے چکر کی حکمرانی ہو گی۔
عظیم شاعری کبھی قسمت اور اتفاقات پر اعتماد نہیں کر سکتی۔ اگر شراب معاملاتِ عشق میں میری زبان کی گرہ کھول سکتی ہے تو بطورِ شاعر اسے باندھ بھی سکتی ہے اور میرے داہنے ہاتھ کی انگلیوں کو جلد ٹوٹ جانے والی کانچ کی سلاخوں میں تبدیل بھی کر سکتی ہے۔ یہاں تک کہ شبانہ محفلوں میں جہاں میں شعر سناتا ہوں، میں عوام کے روبرو پیش ہونے کے لیے اس نشاط آور جام سے مدد نہیں لیتا جسے بعض شعرا، اپنے آپ پر اعتماد کے بجائے، مصنوعی شجاعت اور سورمائی کے لیے استعمال کرتے ہیں، حالاں کہ یہ سورمائی تو بذاتِ خود ناقابل اعتماد ہوتی ہے۔
سرور و مستی ایک دو روز میں شعری پسندیدگی کا وسیلہ نہیں بنتی بلکہ شاعری کے ساتھ سرور و مستی تو بعد میں آتی ہے۔
حواشی:
(1) شياطين شعر پرانے زمانے میں عرب شعرا اور ادبا کا خیال تھا کہ ہر شاعر کے پاس ایک شیطان ہوتا ہے جواس کی شاعری میں الہام کا موجب ہوتا ہے۔
(2) شعر عذری : (لغوی معنی ’کنواری شاعری‘ -) عذری عرب کے ایک قبیلے کا نام ہے۔ وہ شاعر جو اپنے اشعار میں عشقِ معنوی اور عشقِ عفیف کا بیان کرتے تھے، زیادہ تر اسی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ بعد میں عربی ادبیات میں ’الشعر العذری‘، ’الغزل العذری‘ اور ’الحب العذری‘ جیسی اصطلاحات رائج ہو گئیں؛ جب کہ ایسے اشعار کہنے والے مذکورہ قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے تھے، تاہم انہیں اسی قبیلے سے موسوم کیا گیا۔
(3) جميل بُثینہ: جمیل بن معمر ، بُثینہ نامی عورت کا عاشق ۔ پہلی صدی ہجری میں غزل عذری کا اہم ترین عرب شاعر جو اپنی معشوقہ کے نام سے منسوب اور معروف ہوا۔
(4) قيس بن الملوج: لیلیٰ کا مشہور عاشق ؛ مجنوں۔
(5) ہربرٹ مارکیوز Herbert Marcuse) ) (1898-1979) : جرمن فلسفی، سماجی سائنسداں اور سیاسی نظریہ ساز۔