نزار قبانی

نزار قبانی

میری حبیبات

    میری حبیبات

    نزار قبانی

    اس باب میں میرا ارادہ اپنی ڈون ژوانی صلاحیتوں کو پیش کرنا نہیں ہے، اور نہ میں اس باب کو ٹیلیفون ڈائرکٹری کی طرح کی کوئی کتاب بنانا چاہتا ہوں جس میں آپ میری محبوباؤں کے نام حروفِ تہجی کی ترتیب کے مطابق دیکھ سکیں۔ ایسی حماقت کرنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں۔ اسی طرح سے یہ بات بھی اس باب کے مقاصد میں شامل نہیں ہے کہ اسے ایک صحافتی اجلاس بنا دیا جائے جس میں میں اپنی معشوقاؤں کے ناموں کا اعلان کروں اور یہ بتاؤں کہ ان کی عمریں کیا تھیں اور ان کے آنکھوں کے رنگ کیسے تھے۔ اب تو ان میں سے کچھ کی شادی ہو چکی ہے، کچھ صاحبِ اولاد ہیں، کچھ کو نئے چاہنے والے مل گئے اور کچھ ابھی تک کسی کی راہ دیکھ رہی ہیں۔

    یہ باب تحریر کرنے سے پہلے میں کافی متردّد رہا۔ وجہ یہ تھی کہ میں اپنے سماج کی فطرت جانتا ہوں۔ یہ سماج ،مثلاً اس طرح کے انکشاف کے معاملے میں، کھیل کی روح کو قبول نہیں کرتا۔ اپنے تمدن اور کشادگی کے اظہار کے باوجود، یہ سماج ابھی تک محصور اور بند ہے؛ فضيحۃ (اسکینڈل) کی بُو اس کا سر چکرا دیتی ہے اور افواہیں اسے مدہوش کر دیتی ہیں۔ ابھی ہمارے سماج پر طویل عرصہ گزرنا باقی ہے قبل اس کے کہ یہاں سیمون دُبوواز جیسی کوئی عورت پیدا ہو جو، کوئی حرج محسوس کیے بغیر، ایک پوری کتاب ژاں پال سارتر سے اپنے خاص اور عام تعلقات سے متعلق لکھے۔ ابھی بہت سا وقت گزرنا باقی ہے قبل اس کے کہ ژورژساند (1) جیسی عورت آئے جس میں اتنی جرأت تھی کہ اس نے موسیقار شوپاں کے ساتھ اپنی راتوں اور جزیرہ پالما دی مالور میں اپنے اسفار سے متعلق تفصیلات پلک جھپکائے بغیر صفحاتِ قرطاس پر بکھیر دی تھیں۔

    یہ سب وہاں ممکن ہے، مگر یہاں جب (مصری شاعر) عباس محمود العقاد اور لبنانى كاتبہ مَى (مئی) کے درمیان معاشقے کا ... یعنی خط و کتابت کا ... واقعہ ہوا تو لوگ ایک ساتھ دونوں کی شہرت چبا گئے۔ العقاد مصیبت میں پھنس گیا، اور مَی اعصابی امراض کے اسپتال جا پہنچی۔

    جب میں نے تاریخ کا جائزہ لیا تو فیصلہ کیا کہ میں اس باب کے شدید حسّاس ہونے کی بنا پر اسے نہ لکھوں اور اس سے صرفِ نظر کر جاؤں۔ پھر طویل غوروفکر کے بعد مجھ پر یہ بات واضح ہوئی کہ اس باب کی عدم موجودگی سے میری سوانحِ حیات میں ایک بڑا خلا رہ جائے گا۔ میری کوشش ہے کہ میری سوانحِ حیات میں وہ تمام واقعات کامل طور پر شامل ہوں جن کے اثرات میری شعری تشکیل

    پر پڑے ہیں۔

    ایسی عورتیں بہت تھوڑی ہیں جو میرے اعصاب پر چھائی ہوں، سو میں نے ان کے متعلق شعر کہے ہیں۔ میری زندگی میں آنے والی ہر عورت ایسی نہ تھی جس نے میرے اندر شعری ہواؤں کو تحریک دی ہو، اور نہ ہر نسوانی تعلق شعر لکھنے کی میری خواہش کا در وَا کر سکا۔ اکثر عورتیں جس طرح میری زندگی میں داخل ہوئی تھیں اسی طرح چلی بھی گئیں۔ انہوں نے اپنے پیچھے نہ کوئی حرف چھوڑا نہ کاما۔

    میرے اندر ہمیشہ ایک عام آدمی اور ایک شاعر باہم دست و گریباں رہے۔ کتنی ہی عورتوں نے، جنہیں میں نے پا لیا تھا، میری رُجولیت کو تو آسودہ کیا لیکن وہ میری شعری حس کو آسودہ نہ کر سکیں۔

    حسن و جمال شعری آسودگی کے لیے بنیادی شرط نہیں۔ حسن کی دیویاں شاعری کے سب سے بُرے ذرائع ہیں۔ تو پھر یہ شاعری کی عورت کون سی ہوتی ہے، اور شعری آسودگی کیسے حاصل ہوتی ہے؟ میں کوئی چینی حکیم نہیں کہ آپ کو یہ راز بتا سکوں۔ البتہ اپنے تجربات کی روشنی میں میں نے یہ بات جان لی ہے کہ شعر کی عورت وہ ہے جو میرے دماغ کی جھلی میں ہیجان اور دراڑ چھوڑ جائے؛ میرے روزمرہ کے سُرتال اور میرے اطراف موجود اشیا کی نظم و ترتیب میں خلل ڈال دے، اور جو وقت کی حرکت ختم کر کے مجھے اپنے ہی وقت کے ساتھ باندھ دے۔

    یہاں مجھے یہ اعتراف کرنا ہے کہ وہ عورتیں جنہوں نے میرے شیشۂ حیات کو چکناچور کیا، ان کی تعداد ہاتھ کی انگلیوں سے زائد نہیں۔ جہاں تک باقی عورتوں کا معاملہ ہے تو وہ صرف میری جلد کی سطح پر معمولی خراشیں ہی چھوڑ سکیں۔ میں چاہتا ہوں ان عورتوں کے درمیان جن سے میں نے واقعتاً محبت کی، اور جن سے مجھے وہم سا ہے کہ میں نے محبت کی، ایک لکیر کھینچ دوں۔ محبت اور وہم، شمع اور اس کی روشنی کے درمیان یہ تفریق ایک بنیادی شے ہے۔ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو قوسِ قزح کے رنگوں کی مانند تہہ بہ تہہ اور باہم پیوست ہوتا ہے۔ بعض صورتوں میں عاشق کے لیے یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کہ وہ ان رنگین دھاریوں میں سے کس دھاری میں موجود ہے۔

    سترہ سال کی عمر میں ہم خود کو اس پہلی عورت سے محبت کے لیے تیار پاتے ہیں جس سے ہم ہاتھ ملا رہے ہوتے ہیں؛ بالکل اسی طرح جیسے آنکھ کا پردہ روشنی کی اُس پہلی کرن کو گرفت کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے جو اسے چھو جائے، اور جیسے موسم گرما میں مٹی اپنے اوپر آپڑنے والے پانی کے کسی بھی قطرے کو جذب کرنے کے لیے تیار ہوتی ہے۔ یہ محبت نہیں ہوتی، اگرچہ ہم اسے اپنی پہلی اور آخری محبت ہی کیوں نہ تصوّر کر بیٹھیں۔ بعض اوقات ہم یہ بات ثابت کرنے کے لیے محبت کرتے ہیں کہ ہم بھی معشوق بن سکتے ہیں، اور اس لیے بھی کہ ہم اپنی اہمیت اور مردانگی ثابت کر سکیں۔ یہ بھی محبت نہیں بلکہ نرگسیت اور اپنی ذات کی طرف کشش ہے۔ بعض اوقات ہمارا محبت کرنا خالی پن اور اکتاہٹ سے فرار کی ایک صورت ہوتی ہے۔ چناں چہ ہم اس پہلی عورت سے عشق کرنے لگتے ہیں جس سے مِصعد (لفٹ) یا ریل میں ہماری ملاقات ہو جاتی ہے۔ یہ بھی محبت نہیں، بلکہ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے مفلس کو گلی میں کوئی بٹوا پڑا مل جائے۔

    بعض اوقات ہم جہاز میں موجود اس فضائی میزبان سے محبت کرنے لگتے ہیں جو ہمارے سامنے مسکرا رہی ہوتی ہے، یا اسپتال میں اس ممرضہ (نرس) سے جو ہمارے منہ میں تھرمامیٹر رکھتی ہے۔ یہ محبت نہیں بلکہ ہماری خوش خیالی ہوتی ہے جس کا منبع فضائی دباؤ ،یا پھر تیز بخار ہو سکتا ہے۔

    مردوں کا عموماً عورتوں کے ساتھ اس طرح کا خطرناک میل ملاپ ہوتا رہتا ہے؛ ليكن عورت کبھی خوش گمانی کا شکار نہیں ہوتی، اس کا دیکھنا واضح تر اور بصیرت گہری ہوتی ہے۔ عورت اپنی چھٹی جس کے ذریعے، اس بات پر قدرت رکھتی ہے کہ ایسے مردوں پر پڑے پتے جھاڑ سکے جو اس کے ساتھ معاشقہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ وہ جانتی ہے کہ اسے اپنے قدم کس زمین پر دھرنے ہیں۔

    عورت کے بارے میں یہ کہنا بھی عام غلطیوں میں سے ہے کہ مرد کے مقابلے میں وہ بہ آسانی محبت میں گرفتار ہو جاتی ہے، اور یہ بھی کہ جذباتی انفعالات کے سامنے اس کی مزاحمت بہت کم ہوتی ہے۔ یہ بات کبھی بھی درست نہیں ہو سکتی۔ محبت کے شدیدترین لمحات میں بھی عورت اپنا توازن برقرار اور اعصاب پر قابو رکھتی ہے، جب کہ مرد پہلے ہی لمحے ہذیانی مرحلے میں داخل اور بیس ہزار ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ عورت ، اُس وقت بھی جب وہ اپنا ہوش کھو رہی ہوتی ہے اور مرد کے ساتھ آخری کنارے تک پہنچ جاتی ہے، اس بات سے پوری طرح باخبر ہوتی ہے کہ وہ مرد کو کیا پیش کر رہی ہے۔

    اپنے تجربات کی روشنی میں میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ عورت کسی شے سے حیرت زدہ نہیں ہوتی؛ اس کی عقل اور اس کا جسم ہمیشہ چوکنے اور انتظاری حالت میں رہتے ہیں، اس کے اندر کمپیوٹر جیسی کوئی چیز ہوتی ہے جو حیرت انگیز سُرعت سے تمام احتمالات کا شمار کر لیتی ہے، مرد سے ابتدائی تعارف سے لے کر عروسی لباس پہننے تک، اور ان بچوں کے ناموں تک جنہیں وہ جنم دیتی ہے۔

    مجھے یہ اعتراف کرنے کی اجازت دیں کہ ... محبت کے شاعر کے طور پر اپنی شہرت کے باوجود...  میں شاذو نادر ہی محبت میں گرفتار ہوا ہوں۔ تیس برسوں میں پانچ بار۔ ہو سکتا ہے یہ تعداد آپ کو منکسرانہ معلوم ہو لیکن یہ مبنی بر حقیقت اور بالکل درست ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اس عورت سے جس سے میری خواہش ہوتی کہ وہ میری حبیبہ بن جائے، میرے مطالبات مبالغہ آمیز حد تک جا پہنچتے تھے جن پر عمل ممکن نہ ہو؛ حقیقت یہ ہے کہ یہ مطالبات بڑے ذاتی قسم کے اور بہت چھوٹے چھوٹے ہوتے تھے۔ اپنی محبوبہ سے میرا پہلا مطالبہ یہ ہوتا کہ وہ میرے مشابہ ہو، دوسرا یہ کہ وہ میری ماں ہو، اور تیسرا یہ کہ میری عمر کی طرح اس کی عمر کا ایک حصہ بھی فنکارانہ ہو۔

    میرا پہلا مطالبہ کہ میری حبیبہ مجھ سے مشابہ ہو، اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے درمیان ایک مشترک زمین ہو جس پر ہم ساتھ کھڑے ہو سکیں؛ ہماری روحوں اور افکار کا آہنگ ایک جیسا ہو، جس طرح کرسمس کی شب کلیساؤں میں ایک ہی وقت میں گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی خوشیوں پر ایک ساتھ جھومیں، ہماری ہزاروں دلچسپیاں سانجھی ہوں، اور ہم ہزاروں فرحت بخش اشیا مل کر اختراع کریں۔ محبت میں ایسا ممکن نہیں کہ گھوڑے ایک سمت میں چلیں اور گاڑی دوسری سمت میں۔ اس طرح تو گاڑی ہی ٹوٹ جائے گی۔ اپنی حبیبہ کے لیے میں یہ بات پسند نہیں کر سکتا کہ جو چیزیں میرے لیے خوش کن ہوں وہ اس کے لیے عذابِ جان ہوں، اسی طرح یہ کہ اس کی محبوب چیزیں میرے لیے اُکتاہٹ کا سامان بن جائیں۔

    میں کسی ایسی عورت سے محبت نہیں کر سکتا جو میری دلچسپیوں اور چھوٹی چھوٹی خواہشات کے مخالف سمت میں چل رہی ہو۔ میں کسی ایسی عورت سے عشق نہیں کرسکتا جو سوچ، سگریٹ کے پیکٹ ،آنسو اور کرۂ ارض کو ہمارے درمیان دو حصوں میں سانجھا نہ کر سکے۔ میں کسی ایسی عورت سے میل ملاپ کیسے رکھ سکتا ہوں جو میرے ساتھ گُندھ نہ سکے اور میں اس کے ساتھ گندھ نہ سکوں۔ ایسی عورت ہمیشہ اپنے ماحول ،حرارت، اپنے کوہ و جبل، دریاؤں اور اشجارکے ساتھ مجھ سے الگ ہی رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ میرا کسی غیر ملکی عورت سے کبھی سنجیدہ معاشقہ نہیں ہوا۔  مجھے محسوس ہوتا تھا کہ غیر ملکی عورت سے عشق اور اس سے شادی کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہیروغلیفیہ ( hieroglyph ) رسمِ خط میں تحریر کردہ کسی کتاب سے شادی کر لی جائے، اور یہ کہ اجنبی عورت کا شوہر اپنی تمام عمر ترجمان کا فریضہ انجام دیتا ہے۔

    میں کسی طرح بھی ایسی عورت سے محبت نہیں کر سکتا جس میں مجھے پودینے ،دارچینی ،تُلسی ،صنوبر ،یاسمین، ریحان اور اضالیا کی خوشبوئیں محسوس نہ ہوں جن سے میرے وطن کے کھیت کھلیان لہلہا رہے ہیں۔ اس معنی میں میں بہت زیادہ عرب ہوں۔ چناں چہ میرے لیے ممکن نہیں کہ کسی ایسی عورت کے قریب ہوجاؤں جس کا بدن تفصیلی طور پر میرے وطن کے نقشے، اس کے جنگلوں، برسات ، خلیجوں ،میناروں، مواويل (گائے جانے والے اشعار)، مشروب کے پیالوں اور کوئل کی کوکو سے مشابہ نہ ہو۔ بلاشبہ محبت کا ظہور اگر تاریخ کی حرکت کے تحت نہ ہو تو وہ ہمیشہ تاریخ سے باہر ہی رہے گی، یہی وجہ ہے کہ میری محبت کبھی دمشقی، کبھی بیروتی اور کبھی بغدادی رہی؛ اس لیے کہ میں چاہتا ہوں کہ میں یہیں رہوں، یہیں شعر لکھوں، عشق کروں اور یہیں مر جاؤں۔

    میرا دوسرا مطالبہ اپنی حبیبہ سے یہ ہے کہ وہ میری ماں ہو۔ میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ آپ یہ تصور کر بیٹھیں کہ میں عُقدة أودیب (اوڈیپس کمپلکس)  کا شکار ہوں، اور یہ کہ عشق کا رجحان مجھے جبلی طور پر ماں کی طرف لیے جا رہا ہے۔ ایسا کچھ نہیں۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اپنے رویوں، تصرفات اور لکھنے کے عمل میں ہمیشہ حالتِ طفولیت میں رہا ہوں۔ بچپن ہی میری شخصیت اور میرے ادب کی کلید ہے۔ طفولیت کے دائرے سے باہر مجھے سمجھنے کی ہر کوشش ایک ناکام کوشش ہو گی۔ میں بچوں والے جوش و خروش، اچھل کود، شدّت اور معصومیت سے محبت کرتا ہوں، اور میرے مطالبات بھی بالکل بچوں والے مطالبات ہیں۔ میں تو صرف دیکھ بھال، تحفظ اور توجہ کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اشیا کی ضخامت میرے نزدیک اہم نہیں۔ بلاشبہ وہ عورت مجھے اپنا بنا لے گی جو اپنے بیگ سے ٹشوپیپر نکال کر، اس دوران جب کہ میں گاڑی چلا رہا ہوں، میری پیشانی پونچھ دے۔ بلاشبہ وہ عورت بھی میری رگ رگ کو فتح کر لے گی جو میرے سگار کی راکھ ہٹا دے جب کہ میں سگارنوشی میں غرق ہوں، اور وہ عورت بھی مجھے سلیمان بادشاہ کے خزانے بخش دے گی جو اپنا ہاتھ میرے شانے پر رکھ دے جب کہ میں کچھ لکھ رہا ہوں۔ یہ چھوٹے چھوٹے کام مجھے کسی چڑیا کی طرح ہلا مارتے ہیں، میں انہیں مداسات البيانو( پیانو کی ضربوں ) سے تعبیر کرتا ہوں جو موسیقار کی مہارت پر موقوف ہوا کرتے ہیں۔

     بہت تھوڑی، بہت ہی تھوڑی عورتیں ہیں جو اس بات سے واقف ہیں کہ مرد کے اعصاب کے سُر کس طرح چھیڑے جاتے ہیں۔ وہ عورت جس نے چھوٹا سا سفید کتا میری گاڑی میں لٹکا دیا تھا، ایک وہ جس نے، اپنے شہر کے ہوائی اڈے رخصت ہونے سے پہلے، مجھے سنہرا مصحف عطا کیا تھا، اور وہ تیسری عورت جس نے مجھے تحفے میں نیلے رنگ کا ایک ٹیلیفون سیٹ دیا تھا تاکہ محبت کی آواز بھی نیلی ہو جائے، جیساکہ اس نے کہا تھا کہ تم ماہرترین موسیقار... اور عظیم ترین عاشق بن جاؤ۔

    میرا تیسرا مطالبہ اپنی حبیبہ سے یہ ہے کہ وہ میرے فن کو اپنے فن کا جزو اور میری شان کو اپنی شان کا حصہ قرار دے۔ ایسی کوئی عورت میرے لیے راحت بخش نہیں ہو سکتی جو میری شاعری کے حاشیے پر رہے، اور میرے تحریر کیے ہوے اوراق کو اپنا رقیب سمجھنے لگے۔ میں اپنے پہلو میں کسی ایسی عورت کو نہیں دیکھ سکتا جو میرے اور میرے حروفِ ابجد کے درمیان فاصلے پیدا کرے اور خود کو باقی رکھنے کے لیے میری شاعری کا گلا گھونٹ ڈالے۔ ایسی عورتیں میرے سامنے فوراً دم توڑ دیتی ہیں اس لیے کہ میری شاعری اور میں ایک ہی شے ہیں؛ کوئی عورت میری محبوبہ اسی وقت ہو سکتی ہے جب ہمارا اقرار اور انکار ساتھ ساتھ ہو۔

    مجھے یہ بات سب سے زیادہ پسند ہے کہ میری حبیبہ میرے شعری مراحل و اطوار کو اچھی طرح سمجھے؛ وہ اسی وقت میرے قریب ہو جس وقت مجھے اس کی قربت درکار ہو، اور اس وقت دوری اختیار کر لے جب وہ محسوس کرے کہ اس کا دوررہنا ہی مناسب ہو۔ ایک جملے میں اگر کہا جائے تو وہ میرے لیے ایسا ماحول پیدا کر ے جس میں رہ کر میں کام کر سکوں، اور اسے بھی دونوں محبتوں ... فن سے میری محبت اور اس سے میری محبت... کے درمیان کوئی تناقض محسوس نہ ہو۔

    یہی وہ شرائط ہیں جو میرے لیے عملِ محبت کو ممکن بناتی ہیں۔ ویسے تو یہ طفلانہ شرائط ہیں، پھر بھی چند ہی عورتیں ہوتی ہیں جو بچوں کے احتمال پر پورا   اُتر سکیں اور ان پر صبر بھی کر سکیں۔

    میرے اکثر تعلقات ان میں سے کسی ایک شرط کے نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گئے؛ جو عورت مجھ سے مشابہ ہوئی اس نے میری ماں بننا قبول نہیں کیا، جس نے میری ماں بننا قبول کیا اس نے میرے اور میری شاعری کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہنے سے انکار کر دیا۔ چناں چہ میں ایک سے دوسری عورت کی طرف منتقل ہوتا رہا، ایک ایسی فدائیہ کی تلاش میں جو میرے اور میری شاعری کے سینے پر سر رکھ کر جان دے سکے، جیساکہ پینڈورا نے طائرِ ولندیزی والی کہانی میں کیا تھا۔ یہیں سے ڈون ژوانی کی تہمت مجھ سے چمٹی ہے۔

    حواشی:

    (1) ژورژ ساند ( George Sand ) : اصل نام Amantine-Lucile-Aurore Dupin (1804-1876) فرانس کی معروف ناولسٹ اور یادداشت نگار ۔وہ اپنی مقبول تحریروں کے علاوہ اپنے کئی ہم عصر معروف مردوں سے اپنے معاشقوں کےلیے بھی مشہور ہوئی۔