نزار قبانی

نزار قبانی

میرا خاندان اور بچپن

    میرا خاندان اور بچپن

    نزار قبانی

    چار لڑکوں اور ایک لڑکی پر مشتمل خاندانی تشکیل میں میرا نمبر دوسرا تھا۔ باقی المعتز، رشید، صباح اور ہیفا تھے۔ ہمارا گھرانہ دمشق کے متوسط الحال گھرانوں میں سے تھا۔ میرے والد مالدار نہ تھے کیوں کہ انہوں نے دولت جمع نہ کی تھی۔ حلوائی کے کام سے جو کچھ آمدنی ہوتی اسے وہ ہماری خوراک و پوشاک اور تعلیم، اور فرانسیسیوں کے خلاف عوامی مزاحمت کی تحریکوں کی مالی امداد میں خرچ کر دیتے تھے۔

    اگر میرا ارادہ اپنے والد کو کسی گروہ میں شمار کرنے کا ہوتا تو میں بلا تردد انہیں محنت کش گروہ ہی میں شمار کرتا کیوں کہ انہوں نے اپنی عمر کے پچاس سال سنگی کوئلے کے بھبکے سینے میں اتارنے، شکر کو ھیلے اور چوبی صندق بناتے گزار دیے تھے۔ وہ ہر شام کوچۂ معاویہ میں واقع اپنے کارخانے سے ہمارے پاس لوٹتے۔ سرمائی پرنالوں کے نیچے بنا یہ کارخانہ ایسا تھا جیسے کوئی سوراخوں والا جہاز ہو۔

    جب کبھی میں ان لوگوں کی تحریریں پڑھتا ہوں جو مجھ پر بورژوا، خوشحال طبقے اور نیلگوں خون والی نسل سے تعلق رکھنے کی تہمت دھرتے ہیں تو مجھے اپنے والد کا کوئلے کے دھویں سے اٹا چہرہ اور ان کے لباس پر جگہ جگہ لگے داغ اور جلنے کے نشانات یاد آجاتے ہیں۔وہ کون سا طبقہ ہے؟ کون سا نیلگوں خون ہے جس کی یہ لوگ بات کرتے رہتے ہیں؟ میرا خون نہ شاہی ہے اور نہ ہی شاہانہ، بلکہ وہ ان ہزاروں پاکیزہ دمشقی گھرانوں کے افراد جیسا ہی ہے جو شرف واستقامت اور خوفِ خدا کے ساتھ اپنی روزی کمایا کرتے تھے۔