رئیس فروغ

رئیس فروغ

جوئے تازہ کسی کہسار کہن سے آئے

    جوئے تازہ کسی کہسار کہن سے آئے یہ ہنر یوں نہیں آتا ہے جتن سے آئے لوگ نازک تھے اور احساس کے ویرانے تک وہ گزرتے ہوئے آنکھوں کی جلن سے آئے شہرِ گل کاسہ درویش بنا بیٹھا ہے کوئی شعلہ کسی جلتے ہوئے بَن سے آئے درد کی موجِ سُبک سیر میں بہہ جاؤں گا چاہے وہ جان سے چاہے وہ بدن سے آئے صبح کے ساتھ عجب لذّتِ دریوزہ گری رات بھر سوچتے رہنے کی تھکن سے آئے ایسے ظالم ہیں مرے دوست کہ سنتے ہی نہیں جب تلک خون کی خوشبو نہ سخن سے آئے