اپنی مِٹی کو سر فراز نہیں کر سکتے
-
اپنی مِٹی کو سر فراز نہیں کر سکتے یہ درو بام تو پرواز نہیں کر سکتے عالمِ خواہش و تر غیب میں رہتے ہیں مگر تیری چاہت کو سبوتاژ نہیں کر سکتے حُسن کو حُسن بنانے میں مرا ہاتھ بھی ہے آپ مجھ کو نظر انداز نہیں کر سکتے شہر میں ایک ذرا سے کسی گھر کی خاطر اپنے صحراؤں کو ناراض نہیں کر سکتے عشق وہ کارِ مسلسل ہے کہ ہم اپنے لیے ایک لمحہ بھی پس انداز نہیں کرسکتے