رئیس فروغ

رئیس فروغ

جب تری یاد کا طوفان گزر جائے گا

    جب تری یاد کا طوفان گزر جائے گا ؎دل کسی اور سمندر میں اتر جائے گا دشت سے دور سہی سایہء دیوار تو ہے ہم نہ ٹھہریں گے کوئی اور ٹھہر جائے گا داغ رہنے کے لیے ہوتے ہیں رہ جائیں گے وقت کاکام گزرنا ہے گزر جائے گا اپنے حالات سے میں صلح تو کرلوں لیکن مجھ میں روپوش جو اک شخص ہے مر جائے گا دوپہر میں وہ کڑی دھوپ پڑے گی کہ فروغؔ جس کے چہرے پہ جو غازہ ہے اتر جائے گا