سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے
سڑکوں پہ گھومنے کو نکلتے ہیں شام سے ٓآسیب اپنے کام سے ہم اپنے کام سے نشے میں ڈگمگا کے نہ چل سیٹیاں بجا شاید کوئی چراغ اُتر آئے بام سے دَم کیا لگا لیا ہے کہ سارے دکان دار چکھنے میں لگ رہے ہیں مجھے تُرش آم سے غصے میں دوڑتے ہیں ٹرک بھی لدے ہوئے میں بھی بھرا ہوا ہوں بہت انتقام سے مجھ بے عمل سے ربط بڑھانےکو آئے ہو یہ بات ہے اگر تو گئے تم بھی کام سے دشمن ہے ایک شخص بہت ایک شخص کا ہاں عشق ایک نام کو ہے ایک نام سے میرے تمام عکس مرے کرّو فر کے ساتھ میں نے بھی سب کو دفن کیا دُھوم دھام سے