وہ تو ساون کی ہواؤں میں پھسلتی جائے
وہ تو ساون کی ہواؤں میں پھسلتی جائے چھاؤں آنچل سے الجھتی ہوئی چلتی جائے جیسے دنیا میں کہیں اور کوئی جسم نہیں اپنے ہی جسم کی مٹّی سے بہلتی جائے کیسی باتیں ہیں کہ جاناں تری ہر بات کے ساتھ در و دیوار کے رنگت بھی بدلتی جائے ہاتھ ہیں آگ نہ انگار ہیں بانہیں میری پھر بھی وہ موم کی مریم تو پگھلتی جائے کبھی سوئی ہوئی ندیا تھی پر اب کی رُت میں آپ ہی آپ کناروں سے نکلتی جائے اس کی گلیوں میں جو ہے اس کو ہوا کون کہے کوئی بہکی ہوئی ہرنی ہے سنبھلتی جائے دن تو ہنسنے ہنسانے میں بِتائے گوری شام کو دیپ جلاتے ہوئے جلتی جائے