اقبال ساجد

اقبال ساجد

کل شب، دلِ آوارہ کو سینے سے نکالا

    کل شب، دلِ آوارہ کو سینے سے نکالا یہ آخری کافر بھی مدینے سے نکالا یہ فوج نکلتی تھی کہاں، خانہ دل سے یادوں کو نہایت ہی قرینے سے نکالا میں خون بہاکر بھی ہوا باغ میں رسوا اس گل نے مگر کام پسینے سا نکالا ٹھہرے ہوئے زر و سیم کے حق دارتماشائی یہ سوچ کے ساحل پہ سفر ختم نہ ہو جائے باہر نے کبھی پاؤں سفینے سے نکالا