در قفس جو کھلا، آسمان بھول گئے
-
در قفس جو کھلا، آسمان بھول گئے رہا ہوئے تو پرندے آڑان بھول گئے یہ سانحہ بھی ہوا تو، مری زمیں پہ ہوا لہو سے فصل اگانا کسان بھول گئے ہوئی جو شام، تو لوگوں سے بھر گئی چوپال جلا الاؤ، تو ہم داستان بھول گئے سفر سے لوٹ کے رکھا تھا گھر میں پہلا قدم ہنسے جو پھول سے بچے تکان بھول گئے وہاں بھی جھوٹ نہ بولا، جہاں ضرورت تھی ہمیں یہ حرف، کہ حق کی زبان بھول گئے شکار گاہ میں ساجد انہیں خیال آیا وہ گھر سے تیر تو لائے، کمان بھول گئے