اقبال ساجد

اقبال ساجد

دہائی دوں، کہ کھلے ظلم سے بچائے مجھے

    دہائی دوں، کہ کھلے ظلم سے بچائے مجھے کوئی نہیں مرے پنجے سے جو چھڑائے مجھے مرے ہی منہ کو مرا خون لگ چکا ہے، یہاں مرے سوا کوئی قاتل نظر نہ آئے مجھے کوئی گلاب بھی مارے، تو مشتعل ہو جاؤں کہ رنگ و نور کی بارش بھی اب جلائے مجھے میں اپنے جسم کی بوری کو ٹھوکریں ماروں مگر یہ شغلِ اذیّت پسند آئے مجھے نکالے سنگ سے پیکر، بغیر نقب لگائے کوئی چُرائے، تو پھر اس طرح چرائے مجھے میں اشتہار لگاؤں بدن پہ غزلوں کے وہ چاہتا ہے کہ شوکیس میں سجائے مجھے میں خود بھی اپنے اشاروں پہ آج تک نہ چلا وہ انگلیوں پہ بھلا کس طرح نچائے مجھے؟ کٹاؤں سر کو، نہ بیچوں قلم کی حرمت کو عزیز جاں سے زیادہ ہے اپنی رائے مجھے بدل چکے ہیں رویئے، شکایتیں کیسی؟ میں جس سے بچ کے چلوں، وہ نہ منہ لگائے مجھے مزہ تو جب ہے، شعاعیں بھی چھتریاں بن جائیں خود آفتاب چلے لے کے سائے سائے مجھے قیام کرتی ہے ساجد نئی نئی خواہش اجاڑ لگتی ہے دل کی مگر سرائے مجھے