اقبال ساجد

اقبال ساجد

جہاں بھونچال بنیادِفصیل و دَر میں رہتے ہیں

    جہاں بھونچال بنیادِفصیل و دَر میں رہتے ہیں ہمارا حوصلہ دیکھو، ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں دکھاوے کے لئے خوشحالیاں لکھتے ہیں کاغذ پر ہم اس دھرتی پہ ورنہ رزق کے چکر میں رہتے ہیں ضرورت ہی لئے پھرتے ہے ہم کو دربدر ورنہ!! ہم ان میں سے نہیں جو جستجوئے زر میں رہتے ہیں لہو سے جو اٹھائی تھیں وہ بنیادیں نہیں اپنی یہ محسوس ہوتا ہے پرائے گھر میں رہتے ہیں کبھی بیداریاں قسمت تھیں، اب نیندیں مقدر ہیں ہمارا کیا ہے ہم تو شہر خواب آور میں رہتے ہیں مزا مل جائے گا تجھ کو بھی سنگ راہ بننے کا ترے جیسے تو مرے پاؤں کی ٹھوکر میں رہتے ہیں وہ خوشبودار چہرے جو نگاہ و دل کا مرکز تھے خدا جانے بچھڑ کر ہم سے کس محور میں رہتے ہیں دکھوں کے باغ میں ہر وقت شاخ زخم پھلتی ہے ازل سے یہ شجر، کرب ثمر آور میں رہتے ہیں کوئی شہکار فن تکمیل کا دعویٰ نہیں کرتا ادھورے پن کے دکھک ساجد ہر اک پیکر میں رہتے ہیں