اقبال ساجد

اقبال ساجد

کیا ملا اقبال ساجد جدت فن بیچ کر؟

    کیا ملا اقبال ساجد جدت فن بیچ کر؟ اب گزر اوقات کر، دانتوں کا منجن بیچ کر کھول لے بازار میں، چہرے سجانے کی دکان وقت ہے پیسہ کمالے، رنگ و روغن بیچ کر تو نے جو لکھا ہے، اسکو کوڑا کرکٹ ہی سمجھ پیٹ کا دوزخ بجھا سوچو ں کا ایندھن بیچ کر میں کوئی ”یوسف“ نہیں جو لوگ ہاتھوں ہاتھ لیں کچھ نہ پائے گا، مجھے اے میرے دشمن بیچ کر مفت میں تیرے دکھوں کا کون گاہک بن گیا؟ کس کے ہاتھوں تو چلا آیا ہے الجھن بیچ کر دوسروں کو اپنی ویرانی کا کیوں الزام دوں؟ آپ ہی صحرا خریدا اس نے گلشن بیچ کر میرا پیراہن پہن کر، لوگ شہرت پاگئے میں تو ننگا ہو گیا، اپنا نیا پن بیچ کر عزتیں ان کو ملیں، جن کی کوئی عزت نہ تھی ہم کہ رسوائی کا باعث ہو گئے، فن بیچ کر