ڈبلیو۔ایس۔ مرون

ڈبلیو۔ایس۔ مرون

اپنی برسی کے لیے

    ترجمہ:  شاداب احمد

     

    ہر سال وہ دن

    میں نے انجانے میں گزار دیا ہے

    جب آخری شعلے مجھے الوداع کہیں گے

    اور خاموشی روانہ ہو جائے گی

    انتھک مسافر

    جیسے کسی بے نور ستارے کی شعاع

     

    پھر میں خود کو یوں زندگی میں نہ پاؤں گا

    جیسے کسی عجیب لباس میں ......

    زمین،

    ایک عورت کے عشق

    اور پھر مردوں کی بے حیائی پر حیران ......

    جیسے آج تین دنوں کی بارش کے بعد

    لکھتے ہوئے،

    کوئل کا گیت اور جھڑی کا تھمنا سنتے ہوئے

    اور نہ معلوم کس کے آگے

    جھک کر آداب بجا لاتے ہوئے