یہ مارچ ہے
ترجمہ: شاداب احمد
یہ مارچ ہے اور سیاہ گرد کتابوں سے جھڑ رہی ہے
بہت جلد میں جا چکا ہوں گا
قد آور روح جو یہاں بستی تھی
پہلے ہی جا چکی ہو گی
شاہراہوں پر بے رنگ دھاگہ
پرانی قیمتوں تلے پڑا ہے
تم جب بھی پلٹ کر دیکھتے ہو
وہاں ہمیشہ ماضی ہوتا ہے
اوجھل ہو جانے کے بعد بھی
لیکن جب تم سامنے دیکھتے ہو
اپنی غلیظ پوروں اور کاندھے پر بیٹھے
بے بال و پر پرندے کے ساتھ
تم بھلا کیا لکھو گے
پرانی کانوں سے تلخی اب بھی امڈ رہی ہے
مٹھی انڈے کے خول سے برآمد ہو رہی ہے
تھرمامیٹر لاشوں کے دہن سے
ایک مخصوص بلندی پر
چیلوں کی دموں کو ایک لمحے کے لیے
قدموں کے نشانوں نے ڈھانپ لیا ہے
مجھے جو کچھ کرنا ہے اس کا ابھی آغاز نہیں ہوا