کیا تم یہ ہو
ترجمہ: شاداب احمد
تم کیا ہو
پانی کی سیڑھیوں پر ایستادہ
نیا آسیب
حیرتوں سے آزاد
امید اور رنج اب بھی ہمارے پنکھ ہیں
ہم اڑتے کیوں نہیں
کون سی ناکامی روکتی ہے تمہیں
ہم ادھورے لوگوں کے بیچ
پپیہے دعائیں مانگتے چلے جاتے ہیں
ہم کوئی نئی بات نہیں سن رہے
ہم اپنے پر پھڑپھڑاتے ہیں
تم کیوں ہو وہاں
میں نہیں جانتا کہ میرے پاس تمہیں دینے کو
اور بھی کچھ تھا
پپیہے میرے ساتھ یہی دہراتے چلے جاتے ہیں
پر برف میں مقید ہیں
ہم نے جاڑے کو اپنے گھٹنوں پر پھیلا رکھا ہے
جتنا ہم نے گمان کیا تھا سورج آج اس سے کہیں زیادہ دور ہے
اور کھڑکیوں پہ، خنجروں پہ
تم دیکھ ہی رہے ہو