میں نہ کہتا تھا سرابوں میں کہیں پانی ہے
-
میں نہ کہتا تھا سرابوں میں کہیں پانی ہے ریت گیلی ہے یہاں زیرِ زمیں پانی ہے رہنے والے تو گئے سیر کو سیلاب کے ساتھ اب مکانوں میں بہت دن سے مکیں پانی ہے بد دعا لگ گئی پیاسوں کی جنھیں روکا گیا آج ساحل ہے نہ دریا میں کہیں پانی ہے حسن میں اور سمندر میں کوئی فرق نہیں کس قدر تلخ مگر کتنا حسیں پانی ہے رنگ بدلا ہے زمانے کے لیے پی دیکھو یہ کوئی دوسرا مشروب نہیں، پانی ہے دور جانے کی ضرورت ہی نہیں ہے فیصل تم جہاں ایڑیاں رگڑو گے، وہیں پانی ہے