کیا مقدر دیا گیا ہے مجھے
-
کیا مقدر دیا گیا ہے مجھے خواب میں گھر دیا گیا ہے مجھے اپنے سائے کو ڈستا رہتا ہوں زہر سے بھر دیا گیا ہے مجھے کس کی دھڑکن سنائی دیتی ہے دل تو پتھر دیا گیا ہے مجھے ہے کوئی اور ہی پسِ پردہ سامنے کر دیا گیا ہے مجھے یہ جو انعامِ حرف ہے فیصل خامشی پر دیا گیا ہے مجھے