فیصل عجمی

فیصل عجمی

ہاتھ میں دھوپ تھی مہتاب پہ سر رکھا تھا

    ہاتھ میں دھوپ تھی مہتاب پہ سر رکھا تھا اس نے حیران مجھے خواب میں کر رکھا تھا جل پری بھی تھی، جزیرے بھی تھے، طوفان بھی تھا سب نے مل کر مجھے آغوش میں بھر رکھا تھا آدمی کیا کہ ہوا تک نہیں دستک دیتی میں نے کیا سوچ کے دیوار پہ سر رکھا تھا میں نے رکھے تھے کہیں دل میں چھپا کر کچھ لوگ اب مجھے یاد نہیں کون کدھر رکھا تھا کیا نمائش تھی زمانے کی نظر خیرہ تھی زخم رکھے تھے مرے، زخمِ ہنر رکھا تھا میں نے جاتے ہوئے خیمے کو وراثت دی تھی خار و خس رکھے تھے، پھر اُن پہ شرر رکھا تھا