فیصل عجمی

فیصل عجمی

میں بھید جانتا ہوں زمانے کے اور بھی

    میں بھید جانتا ہوں زمانے کے اور بھی نقشے ہیں میرے پاس خزانے کے اور بھی کچھ ایسے عکس بھی ہیں جو اب تک اسیر ہیں پردے اُٹھیں گے آئنہ خانے کے اور بھی تیرے سوا بھی لوگ تھے جو روگ بن گئے کردار یاد آئے فسانے کے اور بھی اک آشنا صدا نے تجسس بڑھا دیا ہم آگئے قریب نشانے کے اور بھی یہ اور بات ہے کہ ٹھکانہ کہیں نہیں رستے بتاؤں گا میں ٹھکانے کے اور بھی کچھ ہجر راس آگیا آوارگی کے بعد کچھ مشغلے ہیں تجھ کو بھلانے کے اور بھی فیصل غنودگی سے تو فرصت ملے ہمیں باقی ہیں چند خواب سنانے کے اور بھی