فاصلے ایک طرف ان کا سبب ایک طرف
-
فاصلے ایک طرف ان کا سبب ایک طرف تو چلا آئے تو رہ جائیں گے سب ایک طرف آنے جانے میں لگی رہتی ہے ساری دنیا شہرِ غم ایک طرف، شہرِ طرب ایک طرف رقص کرتی ہوئی کشتی ابھی گرداب میں ہے اس کو لے جائے گا دریا کا غضب ایک طرف روشنی ڈوب گئی تھی کہ یکایک ابھری زلف سے ہونے لگے دیدہ و لب ایک طرف درمیاں میں ہوں، مرے چاروں طرف دنیا ہے تجھ کو ہونا ہے بہت سوچ کے اب ایک طرف فیصلہ کرتے ہوئے دیر لگا دی فیصل عشق تھا ایک طرف، نام و نسب ایک طرف