فیصل عجمی

فیصل عجمی

کیا مرے کام کوئی دوسرا کر سکتا ہے؟

    کیا مرے کام کوئی دوسرا کر سکتا ہے؟ روز اک گہرے سمندر میں اتر سکتا ہے؟ چاند نکلے تو خرابے کی طرف مت جانا ایک سایہ تمہیں آغوش میں بھر سکتا ہے ہنسنا، رونا، در و دیوار سے باتیں کرنا جس طرح رات گئی دن بھی گزر سکتا ہے مجھ میں جو شخص ہے پتھر بھی ہے آئینہ بھی مر کے جی سکتا ہے، جیتے ہوئے مر سکتا ہے میں جو آنکھیں ترے صحرا میں لیے پھرتا ہوں ان کا پانی بھی سرابوں میں بکھر سکتا ہے