جل پری نیلے سمندر میں اُچھالی میں نے
-
جل پری نیلے سمندر میں اُچھالی میں نے اُس کو آزاد کیا، ناؤ بچا لی میں نے اُس جزیرے کے مقدر میں بھی غرقابی تھی یہی باقی ہے جو تصویر بنا لی میں نے تیری بجھتی ہوئی آنکھوں سے مجھے یاد آیا ان میں دیکھی تھی کبھی شام کی لالی میں نے لوگ ابہام کے جنگل میں پریشاں تھے بہت اُن سے ملنے کے لئے راہ نکالی میں نے اب دیے دل کی حویلی میں جلیں گے فیصل روک لی تیز ہوا سامنے والی میں نے