مجھ کو پانی میں اترنے کا اشارہ کر کے
-
مجھ کو پانی میں اترنے کا اشارہ کر کے جاچکا چاند سمندر سے کنارہ کر کے کیا خبر تجھ کو کہ آزار کسے کہتے ہیں تُو نے دیکھا ہی نہیں دنیا کو گوارا کر کے کیا آنسو تھا کہ مٹی میں ملا چاہتا تھا میں نے آنکھوں میں چھپایا ہے ستارا کر کے مجھ کو دنیا کی ستائش کے لیے چھوڑ دیا کرنے والے نے مرے زخم کا چارہ کر کے تجربہ ایک ہی عبرت کیلئے کافی تھا میں نے دیکھا ہی نہیں عشق دوبارہ کر کے خود کلامی میں بدل جائیں گی غزلیں فیصل چھوڑ جائے گا تجھے وہ سخن آرا کر کے